رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں ایڈز کے پھیلاؤ پر اقوامِ متحدہ کا اظہارِ تشویش


فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں صرف 2017ء کے دوران ایچ آئی وی ایڈز کے 20 ہزار نئے کیس رپورٹ ہوئے جن کی بنیاد پر پاکستان ایشیا اور بحرالکاہل خطے کا ایسا دوسرا ملک ہے جہاں ایڈز کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔

عالمی ادارے کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں صوبۂ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں ایڈز کے 186 نئے کیسز کا انکشاف ہوا جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے پاکستان مشن نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صوبۂ سندھ میں ایڈز کے مرض کے پھیلاؤ کی روک تھام اور اس سے متاثرہ افراد کے علاج اور نگہداشت کے لیے پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومت سے مل کر کام کر رہا ہے۔

پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر نیل بونے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "اقوامِ متحدہ ایسے سانحات کا مقابلہ کرنے اور مستقبل میں انہیں روکنے کے لیے صحت کے شعبہ کو مضبوط کرنے کی غرض سے حکومتِ پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہےـ"

پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ حال ہی میں بڑے پیمانے پر ایڈز کے پھیلاؤ کا ایسا ہی ایک واقعہ لاڑکانہ کی تحصیل رتو ڈیرو سے رپورٹ ہوا ہے جہاں اب تک 186 افراد میں ایڈز کی تصدیق ہو چکی ہے۔

پاکستان کے نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے منیجر ڈاکٹر بصیر اچکزئی کا کہنا ہے کہ لاڑکانہ میں ایڈز کے کیسوں کی وجوہات جاننے کے لیے ان کا ادارہ حکومتِ سندھ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

بدھ کو وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بصیر اچکزئی نے بتایا کہ ابتدائی جائزے کے مطابق لاڑکانہ میں سامنے آنے والے مریضوں میں سے بیشتر غیر محفوظ انتقالِ خون کی وجہ سے ایڈز کا شکار ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس جائزے کے بعد سندھ حکومت نے علاقے میں کئی بلڈ بینکوںٕ کو بند کر دیا ہے اور جن سرکاری اسپتالوں میں محفوظ انتقالِ خون کے لیے طے شدہ طریقۂ کار پر عمل نہیں ہو رہا تھا ان کی انتظامیہ کو تنبیہ کی ہے۔

ڈاکٹر اچکزئی نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 63 ہزار ہے۔ ان کے بقول ان میں سے 82 ہزار کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے جب کہ 60 ہزار مریض صوبۂ سندھ میں ہیں۔

ڈاکٹر بصیر نے کہا کہ پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی ساتھ سماجی سطح پر منفی رویوں کی وجہ سے بھی اکثر لوگ ایڈز کی تشخیص کرانے سے گریز کرتے ہیں جو نادانستہ طور پر مرض کے مزید پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 'نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام' کے پاس ایڈز سے متاثرہ صرف 25 ہزار افراد کا اندراج ہے۔ باقی متاثرہ افراد میں سے صرف 5 یا 10 فی صد لوگ اپنے مرض سے واقف ہیں۔

ڈاکٹر اچکزئی کے بقول اتنی بڑی تعداد میں ایڈز سے متاثرہ افراد کا اپنے مرض سے آگاہ نہ ہونا ایک چیلنج ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کمیونیٹی کی سطح پر پنجاب اور سندھ میں سرگرم 17 تنظیموں کے ساتھ مل کر مریضوں کی تشخیص کا پروگرام چلا رہا ہے۔

ڈاکٹر بصیر نے کہا کہ ایڈز سے بچاؤ کے لیے معاشرے میں اس بارے میں مناسب آگہی بھی ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں کیے گئے ایک جائزے کے مطابق پاکستان کے اسکولوں اور کالجوں میں زیرِ تعلیم طالب علموں میں سے صرف دو سے پانچ فیصد ہی ایڈز کے متعلق جانتے ہیں، جو ایک تشویش ناک بات ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG