رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما اور مذہبی شخصیات کی طرف سے متفقہ طور پر ایک فتویٰ جاری کیا گیا ہے جس میں دہشت گردی کو اسلام کے منافی اور طاقت کے زور پر اپنے نظریات مسلط کرنے والوں کو اسلامی تعلیمات کا باغی قرار دیا گیا۔

اس فتوے کا اجرا منگل کو ایوان صدر اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں کیا گیا اور اسے پیغام پاکستان کا نام دیا گیا ہے۔

یہ فتویٰ سیکڑوں علما اور مذہبی دانشوروں کے دستخط سے جاری کیا گیا جس میں خودکش حملوں، شدت پسندی اور خونریزی کو فساد فی العرض قرار دیتے ہوئے ریاست کے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کا شریعی حق کو تسلیم کیا گیا۔

فتوے میں کہا گیا کہ متحارب جہاد کا حکم صرف ریاست کا اختیار ہے اور اپنے طور پر یہ عمل کرنے والے باغی تصور کیے جائیں گے۔

مزید برآں دہشت گردی کی ترغیب، خودکش حملوں کی تیاری، تربیت، اس کا حکم اور اس پر عمل کرنے والے اسلامی تعلیمات کے باغی ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ اس فتوے کو ریاستی اداروں کی تائید حاصل ہے اور یہ درست سمت میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔

اس موقع پر وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں جاری ہیں اور پاکستان میں شرپسند عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

"اب قوم میں ایسے افراد کے لیے کوئی جگہ نہیں جو اپنے ذاتی مفادات یا بیمار ذہنیت کی وجہ سے دہشت گردوں کی مختلف طریقوں سے زبانی یا عملی حمایت کرتے ہیں، ایسے افراد کو بھی اب قوم دہشت گردوں کے سہولت کار کی نظر سے دیکھے گی اور ان سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔"

انھوں نے فتوے کے تناظر میں پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس کی سرزمین کسی بھی وقت کسی بھی طرح کے دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

دہشت گردی اور انتہا پسندی کے شکار ملک میں اس سے قبل بھی مختلف مکاتب فکر کی طرف سے ایسے فتوے جاری کیے جاتے رہے ہیں لیکن اس بار جاری ہونے والے فتوے کو حکومت قومی بیانیے کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اب اس کا پرچار ضروری ہے تاکہ نہ صرف پاکستان بھر میں بلکہ دنیا میں بھی یہ پیغام واضح انداز میں پہنچ سکے کہ دہشت گردی کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور ایسا کرنے والے اسلام کی روح کے منافی سرگرمی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

تقریب سے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'پیغام پاکستان' وہ پلیٹ فارم مہیا کرے گا جس پر پوری قوم کو یکجا کیا جا سکے گا اور اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام گلی کوچوں سے یہی بیانیہ جاری ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنے حصے کا کام کر رہا ہے اور بین الاقوامی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے تا کہ پاکستان کی کوششوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ثبات ہو۔

"ہم پاکستان میں بھی امن چاہتے ہیں اپنے خطے میں بھی امن چاہتے ہیں ہم اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں، ہم امید رکھتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری بھی اپنے حصے کا کام کرے گی اور ہماری اس کوشش کے ساتھ مل کر چلے گی تاکہ ہم سب مل کر اس خطے میں امن کو کامیاب کر سکیں۔"

پاکستان پر امریکہ سمیت اس کے ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان کی طرف سے یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف سنجیدہ کارروائیاں نہیں کر رہا۔ لیکن اسلام آباد ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی میں اپنی کامیابیوں اور اس جنگ میں ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کو ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG