رسائی کے لنکس

logo-print

صحافی کے قتل کی رپورٹ 24 گھنٹوں میں سپریم کورٹ جمع کرانے کا حکم


سمیڑیال میں قتل کیے جانے والے صحافی ذیشان بٹ۔

صحافی ذیشان بٹ کے قتل کے ملزمان عمران اسلم عمرانی اور شاہد چیمہ کے خلاف تھانہ بگووالہ میں قتل کا مقدمہ درج کر کے ان کے نام بلیک لسٹ میں ڈال دیئے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار نے سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال میں صحافی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت کرنے والے صحافیوں کی جانب سے عدالت کے انسانی حقوق سیل میں جمع کرائی گئی درخواست پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے صحافی کے قتل کا نوٹس لیا۔

چیف جسٹس نے انسپکٹر جنرل پنجاب سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے قتل سے قبل کی آڈیو ریکارڈنگ بھی سنی ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ نوائے وقت اخبار سے تعلق رکھنے والا ذیشان بٹ ٹیکس معلومات لینے تحصیل سمبڑیال کی یونین کونسل بیگووالا کے چیئرمین عمران چیمہ کے پاس گیا تھا جہاں ملزم نے فائرنگ کر کے صحافی کو قتل کردی اور ڈی پی او سیالکوٹ نے ایک ہفتہ گزرنے کے بعد گزشتہ روز تفتیشی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

صحافی ذیشان بٹ کے قتل کے ملزمان عمران اسلم عمرانی اور شاہد چیمہ کے خلاف تھانہ بگووالہ میں قتل کا مقدمہ درج کر کے ان کے نام بلیک لسٹ میں ڈال دیئے گئے ہیں۔

ڈی پی او سیالکوٹ نے ڈائریکٹر جنرل (پاسپورٹ، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی اور چئیرمین نادرا سے رجوع کیا اور درخواست کی کہ ملزمان کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈز کو بلیک لسٹ میں رکھا جائے کیونکہ ملزمان واردات کے بعد سے رپورش ہو چکے ہیں اور ان کے بیرون ملک فرار کا خدشہ ہے۔

ذیشان بٹ کے قتل کے متعلق ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ وہ ان دھمکیوں کے بارے میں اپنے فون سے مقامی خاتون چئیرپرسن کو آگاہ کر رہا تھا اور اس سے قبل ذیشان نے مقامی پولیس کو بھی آگاہ کیا لیکن اسی کال کے دوران فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں اور ذیشان بٹ زندگی کی بازی ہار گیا۔

اس قتل پر ملک بھر میں مختلف صحافتی تنظیموں کی طرف سے شدید اجتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سابق صدر شہریار خان نے کہا کہ اس قتل سے پاکستان میں آزادی صحافت اور صحافیوں کے محفوظ ہونے کے تمام دعووں کی قلعی کھل گئی ہے۔ اس وقت بھی صحافیوں کو کوئی تحفظ حاصل نہیں اور انہیں اپنی مرضی کی خبر نہ دینے یا اپنے خلاف خبر دینے پر بے دریغ موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔ شہریار خان نے اس حوالے سے بھرپور اجتجاج کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ مختلف صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر اس معاملہ پر بھرپور اجتجاج کیا جائے گ۔

انٹرنیشنل نیوز سیفٹی انسٹیٹیوٹ (آئی این ایس آئی) کے مطابق 2017 میں دنیا بھر میں 68 صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کو قتل کیا گیا جن میں سے 9 خواتین بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ 2016 میں 112 صحافیوں کا قتل کیا گیا تھا جن میں 3 خواتین شامل تھیں جبکہ 2015 میں 10 خواتین سمیت 101 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔

تنظیم کے مطابق سال 2017 میں فلپائن صحافیوں کے لئے ایشیا کا سب سے خطرناک ملک رہا، جبکہ افغانستان، پاکستان اور بھارت بھی سرفہرست ہیں، پاکستان اور بھارت کا نمبر چوتھا ہے، دونوں ممالک میں سات، سات صحافیوں کو قتل کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG