رسائی کے لنکس

پاکستان میں مارشل لا کے ادوار میں صحافیوں نے کوڑے کھائے لیکن اظہار رائے سے باز نہیں آئے۔ لیکن جمہوری دور میں نا دیدہ قوتیں اظہار پر پابندیاں لگا رہی ہیں۔ کئی کالم نویسوں نے شکایت کی ہے کہ ان کی تحریریں روکی جارہی ہیں۔

پاکستان میں جنرل ایوب اور جنرل ضیا کے مارشل لا ادوار میں میڈیا کو سینسر شپ کا سامنا کرنا پڑا۔ خبریں روکی جاتی تھیں اور صحافیوں کے لکھنے اور بولنے پر پابندی لگائی جاتی تھی۔

یہ اکیسویں صدی ہے اور پاکستان میں جمہوری ادارے کام کررہے ہیں۔ لیکن کئی لکھنے والوں نے شکایت کی ہے کہ ان کے کالم نامعلوم وجوہ پر روکے گئے ہیں۔

ممتاز قانون داں بابر ستار نے ہفتے کو بتایا کہ دی نیوز نے پہلی بار ان کا کالم چھاپنے سے معذرت کی ہے۔ پھر انگریزی اخبار نیشن نے گل بخاری کا کالم واپس کردیا۔ آج مشرف زیدی نے ٹوئیٹ کیا کہ ان کا کالم بھی رک گیا ہے۔ وجاہت مسعود کا ایک کالم بھی جنگ میں نہیں چھپ سکا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے وجاہت مسعود نے کہا کہ کچھ اخبارات اور چینلوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ 2014 سے جاری ہے۔ یہ نہ صرف غیر اعلانیہ سینسر شپ ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔

وجاہت مسعود کہتے ہیں، اس ملک میں اب بہت کچھ غیر اعلانیہ ہو رہا ہے۔ اسی میں سینسر شپ کا معاملہ ہے۔ کوئی باقاعدہ اعلان تو نہیں کیا گیا لیکن یہ تو طے ہے کہ کچھ اخبارات کو، کچھ چینلز کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ ان کا راستہ محدود کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ 2014 سے شروع ہوا وا ہے اور اب اس کی لپیٹ میں دوسرے لوگ بھی آ رہے ہیں۔ میں اپنے ادارے سے کیا شکایت کر سکتا ہوں۔ میرا ادارہ جو ہے جس میں میں لکھتا ہوں وہ تو چار سال سے ابتلاؤں کا سامنا کررہا ہے۔ واحد اس ادارے کے بارے میں آرمی چیف نے کھل کر کہہ دیا کہ جب چاہیں آپ کو بالکل بند کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد تو باقی کچھ نہیں بچا۔ یس، یہ غیر اعلانیہ سینسر شپ بھی ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ غیر اعلانیہ ہے۔

اخبار نائنٹی ٹو کے ایڈیٹر ارشاد احمد عارف کہتے ہیں کہ کالم نگاروں کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں۔ جب کوئی تحرير چھپ جاتی ہے تو ایڈیٹر اور ادارہ اس کا جواب دہ ہوتا ہے۔ ایڈیٹر اگر آئین و قانون اور معاشرتی اقدار کے خلاف کالم روکتا ہے تو ٹھیک کرتا ہے۔

ارشاد احمد عارف کہتے ہیں ’ خود کالم نویسوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ کیا ملک کی اخلاقیات ہے سیاسی، قانون اور آئین کے جو تقاضے ہیں، وہ پورے کرکے کالم لکھ رہے ہیں یا جو مرضی چاہتے ہیں لکھتے ہیں اور پھر ان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے من و عن چھاپا جائے۔ کسی کالم کو چھاپنا نہ چھاپنا، اس کو ایڈٹ کرنا ایڈیٹر کا اور ادارے کا حق ہے۔ کیونکہ وہ جواب دہ ہے۔ جب ایک چیز چھپ جاتی ہے تو اس کا جوابدہ ادارہ ہے اور ایڈیٹر ہے۔ اگر وہ اس دائرہ کار میں رہتے ہوئے، جو آئین نے متعین کیا ہے، جو قانون نے متعین کیا ہے۔ یا جس کا معاشرہ تقاضا کرتا ہے، کسی چیز کو ایڈٹ کرتا ہے یا کسی کالم کو روکتا ہے تو میرے نقطہ نظر سے کوئی ایسی غلط بات نہیں ہے۔ ایسا ہونا چاہیے کیونکہ ہم معاشرے کو شتر بے مہار نہیں چھوڑ سکتے۔

ارشاد احمد عارف سے اتفاق کرنے والے سینیر صحافیوں کا بھی کہنا ہے کہ اخبارات میں کالم روکے جانے اور کیبل پر بعض نیوز چینلوں کی بندش سے میڈیا دباؤ میں آئے گا اور چند ماہ بعد ہونے والے انتخابات کی غیر جانب دارانہ کوریج ممکن نہیں رہے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG