رسائی کے لنکس

logo-print

کلبھوشن یادیو کیس، عالمی عدالت انصاف میں سماعت 18 فروری سے


پاکستان کی وزارت خارجہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مبینہ بھارتی جاسوسی کلبھوشن یادیو کی ویڈیو دکھائی جا رہی ہے۔ 25 دسبمر 2017

ہیگ کی عالمی عدالت برائے انصاف (آئی سی جے) میں پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں موت کی سزا کے منتظر مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا مقدمہ 18 فروری سے 21 فروری 2019 تک سنا جائے گا۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ کلبھوشن کو پاکستانی سر زمین سے گرفتار کیا گیا اور اس نے تخریبی کارروائیوں کا اعتراف بھی کیا ہے۔

آئی سی جے کے مطابق بھارت اور پاکستان پہلے مرحلے میں 18 اور 19 فروری کو 3، 3 گھنٹے تک دلائل دیں گے۔ دوسرے مرحلے میں 20 فروری کو بھارت ڈیڑھ گھنٹے میں اپنے دلائل پیش کرے گا اور 21 فروری کو پاکستان اپنا موقف پیش کرے گا۔

مانچسٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کے معاملے پر پاکستان کی قانونی ٹیم 19 فروری کو اپنا مؤقف عالمی عدالت انصاف میں پیش کرے گی۔ کلبھوشن کو ہماری سرزمین سے گرفتار کیا گیا اور اس نے تخریبی کارروائیوں کا اعتراف بھی کیا ہے۔

3 مارچ 2016 کو پاکستان کے حساس اداروں نے بلوچستان کے علاقے ماشخیل سے بھارتی جاسوس اور نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا تھا۔

مبینہ 'را' ایجنٹ کی گرفتاری کے چند روز بعد اس کی ویڈیو بھی سامنے لائی گئی تھی، جس میں کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا تھا کہ اسے 2013 میں خفیہ ایجنسی 'را' میں شامل کیا گیا اور وہ اس وقت بھی ہندوستانی نیوی کا حاضر سروس افسر ہیں۔

پاکستان نے آئی سی جے میں گزشتہ برس جولائی میں ’سیکنڈ کاؤنٹر میموریل‘ جمع کرایا تھا۔ پاکستان کی جانب سے درج کاؤنٹر میموریل کے بعد بھارت اور پاکستان نے تحریری بیان بھی جمع کرائے تھے۔

کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ ملاقات کے لیے پاکستان کے دفتر خارجہ میں آ رہی ہیں۔ دسمبر 2017
کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ ملاقات کے لیے پاکستان کے دفتر خارجہ میں آ رہی ہیں۔ دسمبر 2017

پاکستان کی طرف سے جمع کرائی جانے والی 400 صفحات پر مشتمل دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو پر ویانا کنوینشن کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا جو بھارتی نیوی کا افسر ہے اور خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے جاسوسی کر رہا تھا، جب مارچ 2016 میں اسے بلوچستان سے گرفتار کیا گیا۔

بھارت نے 9 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کی پھانسی کے خلاف اپیل دائر کی تھی، اور درخواست کی تھی کہ آئی سی جے پاکستان کو بھارتی جاسوس کو پھانسی دینے سے روکے۔

کلبھوشن یادیو کا ٹرائل فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے سیکشن 59 اور سرکاری سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 3 کے تحت کیا تھا، جس کی توثیق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کی تھی۔

عالمی عدالت نے عبوری فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کو بھارتی دہشت گرد کو کیس کی مکمل سماعت سے قبل پھانسی دینے سے روک دیا تھا۔

آئی سی جے میں جاری کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان اور بھارت کی جانب سے 2، 2 جوابات جمع کرائے جا چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG