رسائی کے لنکس

سندھ، بلوچستان میں سمندری طوفان کا خطرہ


لوگوں کو ساحل پر آنےسے بھی منع کیا جارہا ہے

طوفان کے پیشِ نظر سندھ کی صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے ساحلی اضلاع کراچی، ٹھٹھہ اور بدین کے اسپتالوں کو ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

پاکستان کے جنوبی ساحلی علاقوں میں سمندری طوفان کا خطرہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے جس کے باعث ان علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ شدید بارشیں متوقع ہیں۔

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل عارف محمود کے مطابق بحیرہ عرب میں چار روز قبل ہوا کا کم دباؤ پیدا ہونا شروع ہوا تھا جو اس وقت کراچی کے ساحل سے 630 کلومیٹر جنوب میں موجود ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے عارف محمود نے بتایا کہ ہوا کا یہ کم دباؤ اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں سمندری طوفان میں تبدیل ہوسکتا ہے جس کے باعث سندھ کے ساحلی علاقوں میں ہفتہ کی شام سے تیز ہواؤں کے ساتھ شدید بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

ان کے مطابق طوفان کے باعث ہونے والی بارشیں اتوار کے روز تک ساحلِ مکران کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گی جن کا سلسلہ پیر کی شب تک جاری رہ سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے عہدیدار کے مطابق ساحلی علاقوں میں بارشوں کی شدت اور طوفانی ہواؤں کی رفتار کا دارومدار اس بات پر ہے کہ طوفان کی رفتار اور رخ کیا ہوگا اوریہ پاکستان کے ساحلی علاقوں کے کتنا نزدیک آتا ہے۔

عارف محمود نے بتایا کہ سمندری طوفان کے نتیجے میں ساحلی علاقوں میں طوفانی بارشیں ہونے اور تیز ہوائیں چلنے کے علاوہ سمندری لہروں میں طغیانی آنے کے بھی امکانات ہوتے ہیں جن سے ساحلی علاقے زیرِآب آسکتے ہیں۔ تاہم ان کے بقول سمندری طوفان ابھی ابتدائی شکل میں ہے جس کے باعث محکمہ موسمیات کی جانب سے تاحال کسی ساحلی آبادی سے رہائشیوں کی نقل مکانی کی ہدایات جاری نہیں کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات کا کراچی میں واقع 'ٹروپیکل سائیکلون وارننگ سینٹر' 24 گھنٹے طوفان کی صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ہفتہ کی شام تک صورتِ حال واضح ہونے کے بعد ہی کوئی حتمی وارننگ جاری کی جاسکے گی۔

ان کے بقول فی الوقت سمندر میں پہلے سے موجود ماہی گیروں کو جمعہ کی شام تک ساحل پر لوٹ آنے کی ہدایت دی گئی ہے اور ماہی گیروں سے کہا گیا ہے کہ وہ جمعہ کی شام سے منگل کی صبح تک سمندر کا رخ کرنے سے گریز کریں۔

سندھ، بلوچستان میں سمندری طوفان کا خطرہ
سندھ، بلوچستان میں سمندری طوفان کا خطرہ

ماہی گیروں کی تنظیم 'پاکستان فشر فوک فورم' کے عہدیدار سامی میمن نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ اس وقت بھی 500سے زائد کشتیاں اور 10 ہزار کے لگ بھگ ماہی گیر کھلے سمندر میں موجود ہیں جن میں سے بیشتر کو واپسی کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

ان کے بقول طوفان کی اطلاع پر کل سے اب تک سینکڑوں ماہی گیر واپس ساحل پر آچکے ہیں جبکہ کھلے سمندر میں گئی ہوئی کئی لانچوں سے تاحال رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔

سامی میمن کے بقول ان کی تنظیم کو حکومت کی جانب سے طوفان کی اطلاع تو دی گئی ہے تاہم حکومت کے متعلقہ اداروں نے سمندر کے کنارے واقع ماہی گیروں کی بستیوں کو متوقع طوفان سے بچانے کے لیے فی الحال کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے ہیں۔

طوفان کے پیشِ نظر سندھ کی صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے ساحلی اضلاع کراچی، ٹھٹھہ اور بدین کے اسپتالوں کو ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

دریں اثناء ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی شہری حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک اعلامیہ کے مطابق متوقع بارشوں اور طوفان کی پیش گوئی کے بعد "رین ایمرجنسی پلان" کو حتمی شکل دیدی گئی ہے اور شہری حکومت کے متعلقہ محکموں کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG