رسائی کے لنکس

کراچی کے شمشان گھاٹ پر قبضہ، سپریم کورٹ نے جواب طلب کر لیا


چیف جسٹس کی جانب سے یہ نوٹس ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے شِری رام ناتھ مہاراج کی درخواست پر لیا گیا

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس، جسٹس ثاقب نثار نے کراچی میں ہندو برادری کی ملکیت شمشان گھاٹ کی اراضی پر مبینہ قبضے کا نوٹس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس کی جانب سے یہ نوٹس ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے شِری رام ناتھ مہاراج کی درخواست پر لیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کے لیے 2008 میں شمشان گھاٹ کی اراضی قبضہ میں لی اور اس کے بدلے متبادل جگہ دینے کا اعلان کیا تھا۔

درخواست گذار کا کہناتھا کہ نو سال گذرنے کے باوجود صوبائی حکومت نے اس اراضی کے بدلے ہندو برادری کو متبادل اراضی دی اور نہ ہی اب تک اس کا کوئی معاوضہ ادا کیا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ شمشان گھاٹ کی عدم دستیابی کے باعث ہندو برادری کو سخت مشکلات درپیش ہیں، لہذا سپریم کورٹ آف پاکستان اس حوالے سے کارروائی کرے۔

چیف جسٹس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کو جلد کارروائی کرنے اور دو ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کراچی کا یہ شمشان گھاٹ پاکستان کے قیام سے پہلے سے موجود تھا اور ایک تاریخی حیثیت رکھتا تھا، لیکن حکومت نے جب لیا ری ایکسپریس وے کی تعمیر شروع کی تو شمشان گھاٹ اس کی حد ود میں آ گیا جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہندو کمیونٹی کو اس شمشان گھاٹ کے متبادل جگہ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا جا سکا۔

اکثر مقامات پر قیام پاکستان سے قبل بنائے جانے والے مندر اور شمشان گھاٹ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہوتے جارہے ہیں، تاہم اس سال 11 اگست کو اقلیتوں کے دن کے موقع پر قومی اسمبلی میں ارکان اسمبلی نے اقلیتوں کے حقوق کے لیے بات کی اور کہا کہ نئے شمشان گھاٹ بنائے جائیں۔

اس پر رکن قومی اسمبلی لال چند نے کہا کہ اسلام آباد شہر میں پانچ سو ہندو مقیم ہیں لیکن ایک بھی شمشان گھاٹ نہیں ہے ۔ ارکان اسمبلی نے ان کے مطالبے کی حمایت کی ، جس کے بعد اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ شمشان گھاٹ کے لیے جگہ کی تلاش کررہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG