رسائی کے لنکس

خیبر پختونخواہ میں 'غیرت کے نام' پر کمسن لڑکی قتل


فائل فوٹو

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخواہ میں رواں سال غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور تازہ ترین واقعے میں ایک 12 سالہ لڑکی کی مبینہ طور پر اپنے رشتے داروں کے ہاتھوں ہلاکت کی اطلاعات سامنے آ ئی ہیں۔

حکام کے مطابق صوابی کے علاقے کاڈے میں ایک 12 سالہ لڑکی کو سکیورٹی فورسز نے ایک لڑکے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا اور جب انھیں روک کر پوچھ گچھ کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ "ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں" اور گھر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے لڑکی کے گھر والوں سے رابطہ کر کے اس یقین دہانی پر بچی کو ان کے حوالے کر دیا کہ وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔

لیکن اس واقعے کے چند ہی روز بعد مبینہ طور پر رشتے داروں نے فائرنگ کر کے اس لڑکی کو قتل کر دیا۔

پولیس نے اس واقعے میں لڑکی کے دو رشتے داروں کو تحویل میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق رواں سال خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں 25 سے زائد خواتین کے غیرت کے نام پر قتل کے واقعات سامنے آ چکے ہیں جو کہ ایک تشویش ناک امر ہے۔

رواں سال فروری میں ہی کوہاٹ سے تعلق رکھنے والی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون حنا شاہنواز کو بظاہر اس لیے قتل کر دیا گیا تھا کہ خاندانی روایات کے برخلاف ایک غیر سرکاری تنظیم میں کام کر رہی تھیں جس پر ان کے رشتے دار نالاں تھے۔

گو کہ حکومت نے غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کے تدارک کے لیے حالیہ برسوں میں قانون سازی بھی کی ہے لیکن ایسے قوانین پر موثر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG