رسائی کے لنکس

logo-print

زلزلے سے متاثرہ تمام علاقوں تک پہنچنے کی کوششیں تیز


وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ بعض علاقے بڑے شہروں سے کئی گھنٹوں کی مسافت پر واقع ہیں اور ان میں بعض تک تا حال رسائی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان نے ملک کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں میں تباہ کن زلزلے کے بعد سرکاری اداروں کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امدادی کارروائیوں میں شامل افراد جمعرات کو تمام متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل کر لیں گے۔

اسلام آباد میں جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنی تقریر میں چودھری نثار علی خان نے بتایا کہ صوبہ بلوچستان میں منگل کو آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے میں اب تک 348 افراد کے ہلاک جب کہ 530 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

مگر اُنھوں نے متنبہ کیا کہ وقت کے ساتھ جیسے صورت حال مزید واضح ہو گی تو ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ اُن کے بقول آواران میں خاصی بڑی تعداد میں مکانات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ زلزلے سے پسماندہ و دور افتادہ اضلاع آواران اور کیچ میں زیادہ جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں اور بڑے شہروں سے کئی گھنٹوں کی مسافت پر واقع ہیں اور بعض حصوں تک تا حال رسائی حاصل نہیں کی جا سکی ہے۔

’’ہر جگہ پہنچنا مسئلہ ہے مگر آج پورا دن اس پر صرف ہو گا کہ انشا اللہ آئندہ 12 گھنٹوں میں کوئی ایسا علاقہ نا ہو جہاں ہماری پہنچ نا ہوئی ہو ... کچھ علاقہ ہے جہاں سیاسی اضطراب کی وجہ سے مشکلات ہیں اور شاید رہیں گی، اس میں سی 130 (مال بردار طیاروں) کو استعمال کر رہے ہیں۔‘‘

چودھری نثار نے کہا کہ زلزلے سے متاثر ہونے والا علاقہ انتہائی وسیع ہے، جس کی وجہ سے متاثرین کی مدد اور امدادی اشیا کی ترسیل میں فضائی اثاثوں کا بڑا کردار ہو گا۔
۔
اُنھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں بری، بحری اور فضائی افواج کے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے علاوہ حکومت کو دستیاب تمام وسائل بروکار لائے جا رہے ہیں۔

چودھری نثار نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے امدادی کارروائیوں میں تعاون کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ابتدائی طور پر 10 کروڑ روپے کی فراہمی کا اعلان کیا ہے، جب کہ مستقبل میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

’’وفاقی حکومت کی طرف سے صوبائی حکومت کے لیے ایک بلینک چیک ہے، جو بھی مالی امداد چاہیئے ہو گی وفاقی حکومت مہیا کرے گی۔‘‘

اُنھوں نے حزب مخالف کے رہنماء کی طرف سے حکومت کی کاکردگی پر تنقید پر ’’افسوس‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک قومی سانحہ سے دوچار ہوا ہے اور تمام قوتوں کو اس وقت ذاتی فائدے کے بجائے امدادی کاموں میں اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

بری فوج اور بلوچستان میں تعینات نیم فوجی سکیورٹی فورسز فرنٹیئر کور کے سینکڑوں اہلکاروں کے علاوہ آفات سے نمٹنے کے قومی و صوبائی اداروں کے کارکن بھی امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے چیئرمین سعید علیم کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو یں کہا کہ اُن کا ادارہ صوبائی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔

’’بین الاقوامی برادری کی جانب سے ہمیں تعاون کی پیشکش ہوئی ہے لیکن فی الحال ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے وسائل سے کوشش کریں گے اور اس (صورتِ حال ) کو سنبھال لیں گے۔‘‘

مزید برآں این ڈی ایم اے کے سربراہ کے ہیلی کاپٹر پر ضلع آواران میں جمعرات کو راکٹ داغے گئے، تاہم وہ اپنے ہدف سے نہیں ٹکرائے۔

مقامی انتظامیہ کے اعلیٰ افسر عبد الرشید نے بتایا کہ سعید علیم اور ہیلی کاپٹر میں سوار فوج کے میجر جنرل سمریز سالک اور عملے کے افراد مکمل طور پر محفوظ رہے۔

پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا مگر آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ بلوچستان گزشتہ کئی برسوں سے علیحدگی پسندوں اور شدت پسندوں کی مہلک کارروائیوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔
XS
SM
MD
LG