رسائی کے لنکس

پاکستان میں عید الفطر 'نسبتاً' سادگی سے منائی جا رہی ہے


فائل فوٹو

اتوار کو بہاولپور کے قریب آئل ٹینکر میں آتشزدگی سے 140 افراد جب کہ اس سے تین روز قبل ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد واقعات میں لگ بھگ 80 افراد کی ہلاکت کی وجہ سے پاکستان میں پیر کو عید نسبتاً سادگی سے منائی جا رہی ہے۔

تمام چھوٹے بڑے شہروں میں نماز عید کے اجتماعات کے علاوہ تفریح گاہوں اور عوامی مقامات پر سکیورٹی کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔

ضلع بہاولپور میں پیش آنے والے مہلک واقعے کے باعث وزیراعظم نواز شریف اپنا نجی غیر ملکی دورہ مختصر کر کے پیر کی صبح وطن واپس پہنچ گئے اور بہاولپور میں متاثرہ خاندانوں اور زخمیوں کی عیادت کی۔

اتوار کو احمد پور شرقیہ کے قریب ایک آئل ٹینکر الٹ جانے سے اس میں سے بہنے والے تیل کو جمع کرنے کے لیے قریبی آبادیوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد یہاں پہنچی تھی کہ اسی دوران ٹینکر میں زوردار دھماکا ہوا اور تیل نے آگ پکڑ لی۔

اس واقعے میں لگ 140 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

واقعے کے بعد جائے حادثہ کے قریبی علاقوں اور تحصیل احمد پور شرقیہ میں فضا پیر کو بھی سوگوار ہے اور مرنے والے ایسے افراد جن کی لاشوں کی شناخت ہو چکی تھی انھیں سپرد خاک کردیا گیا ہے۔

درجنوں لاشوں کی شناخت کے لیے جینیاتی تجزیے "ڈی این اے" کیے جا رہے ہیں کیونکہ بری طرح جھلسنے کے باعث ان کی لاشیں شناخت کے قابل نہیں رہی تھیں۔

ملک بھر میں نماز عید کے بعد حالیہ مہلک واقعات میں مرنے والوں کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں امن و سلامتی کے لیے بھی دعائیں مانگی گئیں۔

حالیہ افسوس ناک واقعات کی وجہ سے پیر کو ایوان صدر میں ہونے والی عید کی خصوصی تقریب بھی منسوخ کر دی گئی اور ملک کی قیادت نے عوام سے عید سادگی سے منانے کی اپیل کی۔

جمعے کو پارا چنار میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں لگ بھگ 65 افراد مارے گئے تھے جب کہ اسی روز کوئٹہ میں ہونے والے بم حملے میں 14 لوگ جان سے گئے تھے۔

جمعے کی شام کو کراچی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے چار پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG