رسائی کے لنکس

logo-print

’ملک میں عدم استحکام پر اسٹیبلشمنٹ بری الذمہ نہیں ہو سکتی`


جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ملک میں بظاہر جمہوری حکومت ہونے کے باوجود ملک میں عدم استحکام پر اسٹیبلشمنٹ اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔

وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں غیر جانبدار انتخابات ہی واحد حل ہیں کیونکہ موجودہ حالات عوام فوج کو نجات دہندہ تصور نہیں کرے گی اس لیے ملک میں مارشل لاء نہیں لگ سکتا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جب بھی مارشل لاء نافذ ہوا تو عام طور پر فوج نجات دہندہ کے طور پر سامنے آتی ہے لیکن موجودہ حالات میں حکومت کے ساتھ ساتھ عوام اسٹیبلشمنٹ سے بھی ناراض ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آئین کے مطابق ملکی نظام کا اختیار سولین قیادت کے ہاتھ میں ہونا چاہیئے اور اس میں مداخلت کر کے کوئی یہ اختیار لیتا ہے تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہو گی۔

’فوج آئینی حدود میں رہے گی تو رائے کا احترام ہو گا‘
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:02 0:00

انھوں نے کہا کہ ’فوج کی رائے کا احترام ہے لیکن اختیار اگر سیاست دان کا ہے تو اس کے پاس ہونا چاہیئے۔ اگر سولین اور دفاعی ادارے مل کر کام کریں گے تو باہمی اعتماد پیدا ہوتا ہے‘۔

مولانا کا کہنا تھا کہ وہ اداروں کے مابین اس اعتماد کو بحال کرنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

افغان امن عمل' سے نہ پرامید نہ مایوس!

'افغان امن عمل' کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ وہ اس سے زیادہ پُر اُمید نہیں اور مایوس بھی نہیں ہیں اور اس حوالے سے کئی مراحل درپیش ہیں جن پر سنجیدہ پیش رفت کرنی چاہیئے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ پوری دنیا سے اپنی افواج کو مکمل طور پر واپس بلانا چاہتا ہے یا ان ممالک میں علامتی موجودگی رکھنا چاہتا ہے اور اسی بنا پر اسے طالبان کو فریق تسلیم کرنا پڑا اور ان سے بات چیت کر رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ وہ افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کا حامی ہیں لیکن موجودہ حکومت عوامی تائید اور صلاحیتوں سے محروم جس سے ملک میں عدم استحکام نہیں ہے اور ایسے افغانستان میں استحکام کے لیے کیسے کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری اسٹیبلیشمینٹ اور ریاستی ادارے افغان امن عمل میں کردار ادا کرسکتے ہیں اور ان کے مطابق وہ آن بورڈ بھی ہوں گے۔

اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں

اپوزیشن رہنماؤں پر کرپشن کے مقدمات اور گرفتاریوں سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں سے تحریکیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ انہیں جلا ملتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ’ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کا ڈرامہ رچایا گیا ہے، جب رانا ثناء خود کہتے ہیں کہ حکومت انھیں گرفتار کرنا چاہتی ہے تو کیا وہ بے وقوف ہے کہ منشیات اپنے ساتھ رکھے گا۔ ‘

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک غیر جانبدار اور شفاف الیکشن کی ملک کو ضرورت ہے اور جو 2018ء کے عام اتخابات ہوئے اس پر تمام اپوزیشن جماعتوں کا اتفاق ہے کہ وہ دھاندلی کا نتیجہ ہے اور قوم کے لئے قابل قبول نہیں۔

انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس میں مستقبل کی مشترکہ حکمت عملی کے لئے رہبر کمیٹی قائم کی ہے اور اگر سیاسی جماعتیں سنجیدہ ہیں تو ایسی فضا قائم ہو جائے گی جسے عوام کی بھرپور تائید حاصل ہو گی۔

اپوزیشن جماعتوں میں بد اعتمادی کے بارے میں متحدہ مجلس عمل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ عام انتخابات 2018ء کے فوراً بعد اپوزیشن جماعتوں نے جو موقف طے کیا اور اس کے مطابق جو بیانیہ طے کیا تھا اس سے انحراف کیا۔

پاکستان کی سایست میں مذہبی جماعتوں کے ووٹ بینک میں مسلسل کمی پر متحدہ مجلس عمل کے صدر کا کہنا تھا کہ ملک کی اسٹیبلشمینٹ مذہبی حلقوں کی نشستیں کم کر کے مغرب کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ پاکستان ایک لبرل ملک ہے اور مذہبی جماعتوں کی تو ایوان میں کل دس، پندرہ نشستیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مذہبی جماعتیں ملین مارچ کرتی ہیں اور جمعیت علماء اسلام بیک وقت پچاس لاکھ لوگوں کو اکٹھا کرتی ہے تو اس تاثر کی نفی ہوتی ہے۔

XS
SM
MD
LG