رسائی کے لنکس

logo-print

تجزیہ کاروں کی نظر میں 'پاکستانی میڈیا کے مسائل کا حل کیا ہے؟'


لاہور میں صحافی رضوان الرحمان رضی کا بیٹا، اسامہ رضوی اپنے والد کی تصاویر آویزاں کرتے ہوئے

گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں میڈیا کے کردار کے بارے میں کئی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

ان میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن، سیلف سینسر شپ کے معاملات، مخصوص اداروں کی کارکردگی کی کوریج کے بارے میں سامنے آنے والی تنقید، بعض نمایاں واقعات اور خبروں کی کوریج کے سلسلے میں دشواری اور نامور صحافیوں کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے علیحدگی، اور کئی دیگر تحفطات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

'وائس آف امریکہ' نے ممتاز تجزیہ کاروں سے کچھ بنیادی ایشوز پر بات کرکے یہ جاننے کی کوشش کی آیا ایک متوازن، ذمے دارانہ اور دیانت داری پر مبنی صورتحال کا احاطہ کرنے میں کس نوعیت کے مسائل سامنے آتے ہیں۔

ڈاکٹر فاروق حسنات کا کہنا ہے کہ ''بظاہر تو، واضح طور پر کوئی پابندی دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن بعض افراد اور ادارے خود سیلف سینسر شپ کے نام پر ضرورت سے زیادہ کنٹرول کرتے نظر آتے ہیں، جس سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ کوئی بات ضرور ہے جسے چھپایا جا رہا ہے''۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر پابندی اور کریک ڈاون کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اشتعال انگیز اور نفرت پھیلانے والے بیانئے کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ درست ہے لیکن اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ حکومت خود پر ہونے والی تنقید کو چھپانے کے لئے ایسی پابندیاں اور قدغنیں نہ لگائے۔

ماہر قانون اور امریکہ میں 'سنٹر فار گلوبل جسٹس' کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر طیب محمود کہتے ہیں کہ پاکستان میں سنسر شپ اور پریس پر پابندی کی ایک تاریخ ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے، خاص طور پر گزشتہ ایک سال سے جس میں پچھلی انتخابی مہم بھی شامل ہے۔

بقول اُن کے، ''سب جانتے ہیں کہ مشکل حالات کے تناظر میں بہت سے صحافی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے الگ ہو گئے ہیں؛ اور پرائیویٹ طور پر اپنی نشریات چلا رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ ہے کہ مخصوص اداروں اور ان کی پالیسیوں کے بارے میں بات نہیں کی جا سکتی۔ ہمیں یہ اعتراف کرنے کی ضرورت ہے کہ مسئلہ موجود ہے''۔

جہاں تک سوشل میڈیا کا معاملہ ہے، اُنھوں نے کہا کہ ''وہاں بہت احتیاط درکار ہے''۔

اُنہوں نے کہا کہ ''شدت پسند بیانئے اور اس کا تعین کرنے کی ضرورت ہوگی اور ان ذمے داروں کی بھی جو اس کا تعین کر سکتے ہوں۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں سوشل میڈیا پر کنٹرول کرنا دشوار ہے، کیونکہ اس کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا میں بہترین دفاع یہی ہے کہ خود شہری با خبر ہوں اور غلط بیانئے کے بہکاوے میں نہ آئیں''۔

'ایمنسٹی انٹرنیشنل' کی 2018ء کی ایک رپورٹ میں انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ ''پاکستان میں فوج اور ریاستی اداروں پر تنقید کرنا مشکل ہو رہا ہے''۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ''کسی حد تک یہ بات درست ہے، کیونکہ مخصوص واقعات کا اپنا پس منظر ہوتا ہے، جسے کھل کر بیان کرنا مناسب نہیں ہوتا''۔

انہوں نے کہا کہ ان کا مشورہ یہ ہے کہ لوگوں کو صورتحال سے با خبر ضرور رکھا جائے، کیونکہ کمزور ملکوں میں خبروں کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ضوابط کے پابند اور جمہوری اقدار والے ملکوں میں عوام خود غلط باتوں کو مسترد کر دیتے ہیں۔

جنرل مسعود نے کہا کہ اگر پابندیوں کا مقصد اداروں اور پالیسیوں پر نکتہ چینی کو چھپانا ہے تو پھر یہ درست نہیں؛ اور ایسی صورت حال جمہوری اداروں کی کمزوری کی عکاسی کرتی ہے۔

ڈاکٹر فاروق حسنات کی رائے سے آغاز کرتے ہیں:

please wait

No media source currently available

0:00 0:05:37 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG