رسائی کے لنکس

logo-print

ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پکڑ دھکڑ اور چھاپے


فائل فوٹو

پاکستان کی وفاقی حکومت کو ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے میں کمی کے اپنے فیصلے پر عمل درآمد میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر عوامی تنقید کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے قیمتوں کو واپس پرانی سطح پر لانے کے احکامات دیے ہیں۔

پاکستان میں ادویات کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے ’ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان‘ نے چند ہفتے قبل ادویات ساز کمپنیوں کو قیمتوں میں 9 سے 15 فیصد تک اضافے کی اجازت دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ جس کے بعد حکومت کو یہ شکایات موصول ہونا شروع ہوئیں کہ ادویات کو مقرر کردہ اضافے سے زیادہ قیمتوں پر فروخت کیا جا رہا ہے۔

وزیر صحت عامر محمود کیانی نے ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں میں از خود اضافہ کرنے پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو غیر قانونی اضافے میں ملوث کمپنیوں کا اسٹاک قبضے میں لینے کے احکامات دیئے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے ہیلتھ سروسز ریگولیشن عامر محمود کیانی کے ترجمان ساجد شاہ کے مطابق حکومت نے قیمتوں میں 9 سے 15 فیصد تک اضافے کی اجازت دی تھی لیکن ادویات ساز کمپنیوں نے خود سے قیمتیں کہیں زیادہ بڑھا دیں ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ زائد قیمت مقرر کرنے والی کمپنیوں کے خلاف ایک ہفتے سے ملک بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔

ان کے مطابق قیمتوں میں غیر قانونی اضافہ کرنے والی کمپنیوں کا اسٹاک قبضے میں لیا جا رہا ہے۔ ان پر جرمانے لگائے جا رہے ہیں، مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور پیداواری یونٹ بھی بند کئے جا رہے ہیں۔

وفاقی حکومت نے 889 ادویات کی قیمت میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے تحت 450 سے زیادہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ جب کہ 397 کی قیمتوں میں کمی ہونا تھی۔

ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں نے 450 سے زیادہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ تو کر دیا لیکن 397 ادویات کی قیمتوں میں کمی کی بجائے اس پر عدالت سے حکم امتنائی حاصل کر لیا۔

وزارت صحت کے ترجمان نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا، البتہ ان کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ دوا ساز کمپنیاں قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ مان لیں اور کمی کے نوٹیفکیشن پر عمل نہ کریں۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب وہ ادویات ساز کمپنیوں کے گوداموں پر چھاپے کے لیے جاتے ہیں تو وہاں انہیں زیادہ تر عدالت کا حکم امتنائی دکھا دیا جاتا ہے، جس کے باعث وہ کوئی کارروائی کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ان کے مطابق عدالتی حکم امتنائی کی وجہ سے 397 دواؤں کی قیمتوں میں کمی کے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد ممکن نہیں۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے عہدیدار کے مطابق 2013 میں بھی ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا لیکن اگلے ہی دن اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے نوٹیفکیشن واپس لینے کے احکامات جاری کر دیے تھے لیکن اس کے باوجود قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا۔

ادویات فروخت کرنے والوں کی تنظیم پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن راوپنڈی کے صدر ارشد اعوان کہتے ہیں کہ وفاقی کابینہ نے پہلے قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی اور اب اسے واپس کرنا چاہتے ہیں، لیکن عملی طور پہ ایسا ممکن نہیں ہے اور اگر ایسا کیا گیا تو عوام بہت سی سستی ادویات سے محروم ہو سکتے ہیں۔

ڈرگ لا فورم کے صدر نور مہر کے مطابق ’ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی‘ کے پاس ادویات کی قیمتوں کے تعین کا واضع طریقہ کار موجود نہیں۔ اس بنا پر قیمتوں میں اضافے کی واپسی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔

ان کے مطابق 1976 کا ڈرگ ایکٹ بہت پرانا ہو چکا ہے اور اس ضمن میں حکومت کو قانون سازی سمیت بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ دو ماہ کے اندر ادویات کی قیمتوں میں یہ دوسرا اضافہ ہے اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر بڑھنے کے باعث انہیں دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا کیونکہ ادویات کے لیے زیادہ تر کیمیکلز بیرونی ملکوں سے آتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG