رسائی کے لنکس

فوجی عدالتوں میں ایک سال کی توسیع کی تجویز


آصف زرداری (فائل فوٹو)

وزیر خزانہ کے بقول حکومت اتفاق رائے سے فوجی عدالتوں میں توسیع کا معاملہ حل کرنا چاہتی ہے۔

پاکستان میں حزب مخالف کی ایک بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے فوجی عدالتوں میں توسیع سے متعلق اپنی جماعت کا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے، نو نکات پر مشتمل تجاویز پیش کی ہیں۔

پیر کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں آصف علی زرداری نے کہا کہ اُن کی جماعت فوج کے ساتھ ہے اور پیپلز پارٹی دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہے۔

گزشتہ ہفتے بیشتر پارلیمانی جماعتوں اور حکومت کے مابین فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر اتفاق ہوا تھا، تاہم اس اجلاس میں پیپلز پارٹی نے شرکت نہیں کی تھی۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی طرف سے جو تجاویز پیش کی گئیں اُن میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ فوجی عدالت میں فوج کے افسران کے ساتھ ساتھ ذیلی عدالت کے جج کو بھی شامل کیا جائے۔

سابق صدر نے انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کے لیے درکار وسائل فراہم نا کرنے پر بھی وفاقی حکومت کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔

آصف علی زرداری کی نیوز کانفرنس کے بعد پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر قانون زاہد حامد نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اُنھیں پیپلز پارٹی کی طرف سے تجاویز مل چکی ہیں اور اُن کے بقول اب دیگر سیاسی جماعتوں سے آئندہ دو سے تین روز میں اس بارے میں مشاورت کی جائے گی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں تین سال کی توسیع کی تجویز سامنے آئی تھی لیکن بعد ازاں پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں فوجی عدالتوں میں دو سال کی توسیع پر اتفاق کیا گیا۔

’’اب پیپلز پارٹی نے فوجی عدالتوں میں ایک سال کی توسیع کی تجویز دی ہے۔۔۔ جو آپ نے عدالتی اصلاحات کرنی ہیں وہ کام دو سال سے کم وقت میں مکمل ہونے والا نہیں ہے۔‘‘

تاہم اُنھوں نے کہ پیپلز پارٹی کی تجاویز پر غور اور مشاورت کی جائے گی۔

وزیر خزانہ کے بقول حکومت اتفاق رائے سے فوجی عدالتوں میں توسیع کا معاملہ حل کرنا چاہتی ہے۔

دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے 2015ء میں قائم کی گئی فوجی عدالتوں کی دو سالہ مدت رواں سال سات جنوری کو ختم ہو گئی تھی جس کے بعد سے ان عدالتوں میں توسیع کے لیے حکومت سیاسی جماعتوں سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG