رسائی کے لنکس

logo-print

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر اتفاق


پاکستان میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر تقریباً بیشتر پارلیمانی جماعتوں اور حکومت کے مابین اتفاق ہو گیا اور اس بارے میں آئینی ترمیم کے لیے آئندہ ماہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بھی بلایا جا رہا ہے۔

دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے 2015ء میں قائم کی گئی فوجی عدالتوں کی دو سالہ مدت رواں سال سات جنوری کو ختم ہو گئی تھی جس کے بعد حکومت کی طرف سے ان عدالتوں کی مدت میں توسیع کی کوششوں پر حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے تحفظات کے ساتھ مزاحمت دیکھنے میں آتی رہی۔

تاہم اس سلسلے میں پارلیمانی جماعتوں کے راہنماؤں کے حکومتی نمائندوں کے ساتھ ہونے والے متعدد اجلاسوں کے بعد منگل کو مدت میں توسیع پر اتفاق کیا گیا۔ لیکن حکومت کی طرف سے تجویز کردہ تین سالہ توسیع کی بجائے اب ان عدالتوں کو پھر سے دو سال کے لیے فعال کیا جائے گا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ منگل کو ہونے والے اجلاس میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی شریک نہیں تھی جس نے اس معاملے پر آئندہ ماہ کل جماعتی کانفرنس بلا رکھی ہے۔

تاہم اجلاس کے بعد پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی بلائی گئی کانفرنس میں اگر کوئی اور سفارشات بھی سامنے آتی ہیں تو انھیں بھی پارلیمان میں ہونے والی بحث میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ توسیع کا یہ تازہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا ہے اس کے سارے معاملے کی نگرانی اور دیگر اقدام کے لیے بھی امور پر اتفاق ہو گیا۔

"اس کے ساتھ ایک لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا ٹائم لائن کے ساتھ اس پر تبادلہ خیال ہو رہا ہے اور ایک پارلیمانی کمیٹی اس سارے معاملے کی نگرانی کرے گی، قومی سلامتی سے متعلق پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی کمیٹیاں باقاعدگی سے اپنی میٹنگز کریں تاکہ جب یہ دو سال کی مدت ختم ہو تو اس وقت ایک نظام بن چکا ہو اور پھر فوجی عدالتوں کی ضرورت نہ پڑے۔"

اجلاس میں شریک قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ساری جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ملک کو آج بھی غیر معمولی حالات کا سامنا ہے اور فوجی عدالتوں کو توسیع کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کے معاملات کی نگرانی کے لیے کمیٹی بنانے اور اُن کے امور کے لیے وقت متعین کرنے کی تجاویز تھیں جن پر اتفاق کیا گیا۔

"یہ اس لیے کہ حکومت کو وقت کو پابند کیا جائے کہ وہ اس معینہ مدت پر عمل پیرا ہو تاکہ پھر دو سال بعد ہم اس نہج پر نہ آ جائیں۔ یہ کوئی پسندیدہ راہ نہیں ہے جو ہم اختیار کر رہے ہیں ہمارے معمول کے نظام قانون کو ان امور پر توجہ دینی چاہیے۔"

قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت اس عرصے میں تمام ضروری اقدام کرے گی۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور خان نے اپنی جماعت کی طرف سے فوجی عدالتوں میں توسیع کی حمایت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا انھیں اس بارے میں تحریر کی گئی دستاویزات میں مذہبی دہشت گردی پر اعتراض تھا جسے حکومت نے تبدیل کرنے کا یقین دلایا ہے۔

"یہ مشکل فیصلہ تھا لیکن ملک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس پر اتفاق کیا گیا۔۔۔ہمارا اور دیگر مذہبی جماعتوں کا کہنا تھا کہ مذہب کو ہدف نہ بنایا جائے اگر اس لفظ کو ہم نکالیں گے تو ہم بہتر طریقے سے ان حالات پر قابو پا سکیں گے۔"

عوامی نیشنل پارٹی کے راہنما غلام احمد بلور نے صحافیوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ مجبوری میں کیا گیا لیکن ان کے بقول اگر ملک میں امن کے لیے اس سے بھی مشکل اقدام کرنا ضروری ہو تو وہ بھی کیا جائے۔

مبصرین یہ کہتے آئے ہیں کہ ملک میں رائج نظام انصاف میں اصلاحات بشمول ججز، وکلا اور گواہان کے تحفظ کے لیے موثر اور ٹھوس اقدام کی ضرورت ہے اور ان کے بقول اس کے بغیر کیے جانے والے تمام اقدام عارضی ہی ثابت ہوں گے۔

دو سال قبل جب فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں تو اس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض بڑی وکلا تنظیموں نے اسے ملک کے عدالت نظام کے متوازی قرار دیتے ہوئے ان کی مخالفت کی تھی اور اس بارے میں عدالت عظمیٰ سے بھی رجوع کیا گیا تھا۔

لیکن سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کے قیام کو برقرار رکھا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں میں بھیجے جانے والے دہشت گردی کے مقدمات چھان بین کے ایک عمل سے گزار کر بھیجے جاتے ہیں اور ان عدالتوں میں ملزمان کو اپنی صفائی کا پورا موقع دیا جاتا جب کہ ان عدالتوں سے سنائی جانے والی سزاؤں کے خلاف ملزمان کو اعلیٰ عدلیہ میں اپیل کا حق بھی حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG