رسائی کے لنکس

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا مطالبہ


فائل فوٹو

اسفند خان کی والدہ کا کہنا تھا کہ اگر حکومت فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع نہیں کرتی تو یہ اے پی ایس اور باچاخان یونیورسٹی حملوں میں مرنے والوں کے خون کو بھلانے کے مترادف ہو گا۔

پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دو سال قبل دہشت گرد حملے میں موت کا شکار ہونے والے بچوں کے والدین نے حکومت سے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ بصورت دیگر وہ پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے۔

16 دسمبر 2014ء کو ہونے والے اس حملے میں 130 سے زائد بچوں سے 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد نہ صرف ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے قومی لائحہ عمل وضع کیا گیا بلکہ دہشت گردی کے مقدمات کی جلد سماعت کے لیے آئین میں ترمیم کر کے فوجی عدالتیں بھی قائم کی گئی تھیں۔

ان عدالتوں کی دو سالہ مدت گزشتہ ہفتے ختم ہو گئی تھی اور تاحال ان کی توسیع کے بارے میں حکومت سیاسی جماعتوں کے مشاورت کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس بارے میں فیصلہ اتفاق رائے سے ہی کیا جائے گا۔

بدھ کو ’اے پی ایس‘ حملے کے متاثرہ بچوں کے والدین نے پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جب تک اس حملے کے اصل ذمہ داروں کو سزائیں نہیں مل جاتیں وہ لوگ چین کے نہیں بیٹھیں گے۔

اسکول حملے میں مرنے والے بچے اسفند خان کی والدہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ فوجی عدالتوں کا قیام ان کے بچوں پر ہونے والے حملے کے بعد عمل میں آیا تھا اور ان عدالتوں سے ان کے بقول دہشت گردوں کو ملنے والی سزاؤں نے ملک میں قیام امن کے لیے بڑا کردار ادا کیا۔

اسکول پر حملہ کرنے والے سکیورٹی کی جوابی کارروائی میں مارے گئے تھے جب کہ اس حملے کے پانچ سہولت کاروں کو فوجی عدالتوں سے موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

تاہم اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سرکردہ کمانڈر تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آسکے ہیں۔

اسفند خان کی والدہ کا کہنا تھا کہ اگر حکومت فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع نہیں کرتی تو یہ ’اے پی ایس‘ اور باچاخان یونیورسٹی حملوں میں مرنے والوں کے خون کو بھلانے کے مترادف ہو گا۔

ان کے بقول اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ ان کی منظوری تک پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے۔

بعض غیرجانبدار مبصرین بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ چونکہ ملک میں سول عدالتوں میں دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے موثر اقدام اور اصلاحات موجود نہیں ہیں لہذا فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

XS
SM
MD
LG