رسائی کے لنکس

logo-print

محرم میں درجنوں علما کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے گی


نامور شیعہ عالم دین علامہ امین شہیدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صرف دس روز کے لیے ایسے اقدامات سے فرقہ وارانہ کشیدگی کم کرنے میں دیرپا کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔

پاکستان میں اتوار کو شروع ہونے والے اسلامی سال کے پہلے مہینے محرم کے لیے سکیورٹی کے انتظامات کو حتمی شکل تو پہلے ہی دی جاچکی ہے لیکن حکام نے شیعہ اور سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے درجنوں علما کو امن و امان کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کی نقل و حرکت اور تقاریر پر نظر رکھنے کی ہدایت بھی جاری کردی ہے۔

پاکستان میں محرم کے دوران شیعہ برادری کے ماتمی جلوسوں اور مجالس کے موقع پر ماضی میں بھی ناخوشگوار واقعات پیش آچکے ہیں اور اس مہینے کے پہلے دس روز میں فرقہ وارانہ تصادم کا خطرہ بھی بڑھا جاتا ہے۔

گزشتہ سال یوم عاشور پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کے راجہ بازار میں ایک ایسے ہی فرقہ وارانہ تصادم میں 11 افراد ہلاک ہوگئے تھے جب کہ مشتعل افراد کی طرح سے نذر آتش کی گئی املاک کی وجہ سے کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہوا۔ صورتحال اس حد تک کشیدہ ہوگئی تھی کہ علاقے میں کرفیو بھی نافذ کرنا پڑا۔

حکام کے بقول اسلام آباد میں 23 کے قریب مذہبی شخصیات کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے معمولات اور نقل و حرکت سے پولیس کو آگاہ رکھیں گے۔

ملک بھر میں امام بارگاہوں کے باہر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کے علاوہ کسی بھی طرف سے منافرت پر مبنی تقاریر پر نظر رکھنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔

لیکن مجلس وحدت المسلمین کے ایک اعلیٰ عہدیدار اور نامور شیعہ عالم دین علامہ امین شہیدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صرف دس روز کے لیے ایسے اقدامات سے فرقہ وارانہ کشیدگی کم کرنے میں دیرپا کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔

"یہ جو شدت پسند عناصر ہیں، ان شدت پسند عناصر کو روکنا سارے سال کی ذمہ داری ہے ریاست کی، صرف ان دس دنوں کی نہیں۔ لیکن جب ریاست سارے سال میں 355 یا 356 دنوں میں ان کو کھلی چھٹی دے دے اور کہے کہ ان دس دنوں میں ہم ان کو روک رہے ہیں تو ظاہر ہے اس طرح تو کبھی بھی نہیں رکے گا پہلی بات، دوسری بات جومسالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنے والے لوگ ہیں ان کی زبان بندی پورے سال کے لیے ضروری ہے تاکہ ان ایام میں چاہے وہ محرم ہو یا ربیع الاول ہو ان دونوں مقدس مہینوں میں ان کی پورے سال کی کاوشوں کا نتیجہ نکل آتا ہے اس موقعہ پر آپ اس کو روک سکتے ہیں جب پورے سال آپ نے مثبت کام کیا ہو اور آپ نے منفی کام کرنے والوں کو اجازت نہ دی ہو مہلت نہ دی ہو"۔

گزشتہ ہفتے ہی پاکستان میں قانون سازی کو اسلام کے مطابق بنانے کے لیے قائم اعلیٰ ترین مشاورتی کونسل "اسلامی نظریاتی کونسل" کی طرف سے بھی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ملک میں نفرت انگیز مواد اور تقاریر پر پابندی عائد کی جائے اور اس قانون کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

XS
SM
MD
LG