رسائی کے لنکس

logo-print

'سائبر کرائم بِل صحافیوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے'


فائل

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے الیکٹرانک جرائم کے تدارک کے لیے بنائے گئے سائبر کرائم بل کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے مقدمات کا سامنا کرنے والے کراچی کے صحافی شاہ زیب جیلانی نے کمیٹی کی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی اور بتایا کہ ان پر ایف آئی اے کی جانب سے سائبر دہشت گردی، نفرت انگیز مواد پھیلانے اور ہتک عزت کے مقدمات دائر کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے ان پر دائر مقدمات کو خارج کر دیا ہے۔ تاہم، بقول ان کے، ’’اس سارے معاملے سے معلوم ہوا کہ سائبر کرائم بل صحافیوں کو خاموش کرانے کے لئے استعمال ہو رہا ہے‘‘۔

انٹرنیٹ پر رازداری کے لئے سرگرم تنظیم 'بولو بھی' کی شریک بانی فریحہ ادریس نے کمیٹی کو بتایا کہ الیکٹرانک جرائم کے تدارک کے لیے اگست 2016 میں منظور ہونے والے سائبر کرائم بل کا تواتر سے غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق، ’’شاہ زیب جیلانی کی طرح بہت سے صحافیوں اور بلاگرز کو اس قانون کے تحت گرفتاری اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے اس قانون کے غلط استعمال کے لئے رکھے گئے حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے‘‘۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی شرکت کی۔

کمیٹی اراکین نے سائبر کرائم بل کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کی تیاری کے وقت ان خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ اس کا استعمال صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف ہوگا۔ لیکن، اس وقت کی حکومت نے ان خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے عجلت میں منظور کروایا۔

وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ گذشتہ پارلیمنٹ میں وہ سائبر کرائم بل کا مسودہ تیار کرنے والی کمیٹی کا حصہ تھیں ’’اور ہمیں اس شکل میں بل کی منظوری پر تحفظات تھے‘‘۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ ’’بل میں ایسی کوئی غلط قانون سازی نہیں ہے۔ البتہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں‘‘۔
شیریں مزاری نے بتایا کہ یورپی یونین نے بھی سائبر کرائم بل کو دیکھا اور اسے درست تسلیم کیا ہے۔ ’’تاہم، ہمیں اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے‘‘۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے کمشنر، چوہدری شفیق نے بھی کمیٹی کو بتایا کہ ’’سائبر کرائم بل کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور 2016 سے اس سے متعلق شکایات انسانی حقوق کمیشن کو موصول ہو رہی ہیں‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ قانون کے مطابق، ایف آئی اے تفتیش کے تین مراحل مکمل کئے بغیر مقدمہ درج نہیں کر سکتا اور نہ ہی مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر کسی کو ہراست میں لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون سازی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کہ اس کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیوں ہو رہی ہیں۔

قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ملک میں صحافتی آزادیوں پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی اور سائبر کرائم قانون کے ذریعے صحافیوں کو ہراساں کرنا قابل تشویش ہے۔

انہوں نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو اس بل کے غلط استعمال کی روک تھام کے لئے ترامیم تجویز کرنے کا کہتے ہوئے کہا کہ کمیٹی سائبر کرائم کے اس قانون پر نظر ثانی کرے گی۔
بلاول بھٹو نے ایف آئی اے کے سربراہ کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ اس قانون کے تحت اب تک بنائے گئے مقدمات کی رپورٹ پیش کرے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق، ایف آئی اے کو ہر چھ ماہ کے بعد سائبر کرائم بل کے تحت بنائے جانے والے مقدمات کی رپورٹ جمع کرانا ہوتی ہے جس پر، بقول ان کے، عمل نہیں کیا جا رہا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG