رسائی کے لنکس

logo-print

435 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کا حکم


حکومتی جماعت کے علاوہ سیاسی و سماجی حلقے آف شور کمپنیوں کے مالک دیگر پاکستانیوں کے خلاف بھی تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ نے پاناما اور برٹش ورجن آئی لینڈ میں قائم 435 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

گزشتہ سال اپریل میں صحافیوں کے ایک بین الاقوامی اتحاد نے دنیا بھر کے ہزاروں ایسے دولت مند افراد کے نام اور تفصیلات افشا کی تھیں جنہوں نے بظاہر ٹیکس بچانے کے لیے بیرونِ ملک یہ کمپنیاں قائم کی ہوئی تھیں۔

گو کہ ان میں 400 سے زائد پاکستانیوں کے نام بھی تھے لیکن حزبِ مخالف نے پاکستان کے اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کے تین بچوں کے نام آف شور کمپنیوں پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ یہ معاملہ عدالت عظمیٰ تک پہنچا تھا جہاں سے نواز شریف کو رواں سال جولائی میں آنے والے فیصلے پر اپنے منصب سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی تھی۔

حکومتی جماعت کے علاوہ سیاسی و سماجی حلقے دیگر پاکستانیوں کے خلاف بھی تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

منگل کو اسلام آباد میں نیب کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیئرمین جاوید اقبال نے ان 435 پاکستانیوں سے متعلق تحقیقات کا حکم دینے کے علاوہ تمام متعلقہ اداروں بالخصوص مرکزی بینک، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وفاقی تفتیشی ادارے 'ایف آئی اے' سے بھی ان افراد کی کمپنیوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ اس تحقیقات کے سلسلے میں کسی دباؤ اور سفارش کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔

ان 435 پاکستانیوں میں حزبِ مخالف کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک سینئر راہنما علیم خان کے علاوہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سابق چیئرمین عبداللہ یوسف سمیت متعدد سیاسی و کاروباری افراد شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG