رسائی کے لنکس

logo-print

انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے کی فوری بحالی کی ہدایت


نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی "نیکٹا" ایک خودمختار ادارہ ہے جو براہ راست وزیراعظم کو جوابدہ ہے لیکن یہ ادارہ تاحال پوری طرح سے قابل عمل نہیں ہوسکا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے جہاں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے وہیں حکومت تمام سیاسی جماعتوں کے متفقہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے بھی سرگرم دکھائی دیتی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کوششوں کی خود قیادت کریں گے اور ان دنوں وہ روزانہ کی بنیاد پر اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں عہدیداروں سے مشاورت اور انھیں ہدایات جاری کر رہے ہیں۔

ہفتہ کو اسلام آباد میں قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کی جائزہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے تمام اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کم سے کم وقت میں زیادہ نتائج حاصل کرنے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت انسداد دہشت گردی کی جنگ میں مسلح افواج کے جوانوں کو قانونی تحفظ دے گی۔

انھوں نے دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے "نیکٹا" کو فوری طور پر فعال کرنے کی ہدایت کی۔

نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی "نیکٹا" ایک خودمختار ادارہ ہے جو براہ راست وزیراعظم کو جوابدہ ہے لیکن ادارہ تاحال پوری طرح سے قابل عمل نہیں ہوسکا ہے۔

ہفتہ کو ہونے والے اجلاس میں قانونی ماہرین کی ایک ٹیم نے دہشت گردی کے خلاف موثر لائحہ عمل کے لیے ایک قانونی مسودہ بھی پیش کیا جس پر وزیراعظم نے سیاسی قیادت سے مشاورت کی ہدایت کی۔

قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے قائم کی گئی کمیٹیوں کو ہدایت کی جاچکی ہے کہ وہ ملک سے مسلح گروہوں کے خاتمے، دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے خصوصی فورس تشکیل دینے اور دہشت گردوں کے مالی وسائل جمع کرنے کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے اقدامات کریں۔

گزشتہ ہفتے پشاور میں اسکول پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد ملک کی تمام پارلیمانی جماعتیں دو بار وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس کر چکی ہیں جس میں متفقہ طور پر ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنے کی حمایت کی۔

گزشتہ کل جماعتی کانفرنس میں بعض تحفظات کے باوجود فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا تھا جو دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کریں گی۔ اس بارے میں آئینی ترمیم کے لیے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان کو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے دہشت گردی و انتہا پسندی کا سامنا ہے اور اب تک اس کے ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 50 سے زائد افراد اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلے میں کیے جانے والے بعض فیصلوں پر مقامی و بین الاقوامی سطح پر بعض انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے تنقید بھی سامنے آئی ہے لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کو درپیش حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ تمام اقدامات کیے جائیں گے جو وقت کی ضرورت ہیں۔

XS
SM
MD
LG