رسائی کے لنکس

کمیٹی پر کمیٹی، نوٹس پر نوٹس لیکن دھرنا سترہویں روز میں داخل


وفاقی وزیرِ داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ حکومت طاقت کے ذریعے احتجاج کرنے والوں کو منتشر نہیں کرنا چاہتی کیونکہ ان کے بقول 'دھرنے میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو خون خرابہ چاہتے ہیں۔'

راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع فیض آباد میں ایک مذہبی جماعت کے سیکڑوں کارکنوں کی طرف سے دیا گیا دھرنا بدھ کو 17 ویں روز میں داخل ہو گیا ہے اور اس کے باعث جڑواں شہروں کے درمیان شہریوں کی نقل و حرکت میں خلل اور متاثر ہونے والے معمولاتِ زندگی میں بہتری کے کوئی فوری آثار دکھائی نہیں دیتے۔

رواں ماہ کے اوائل میں 'تحریکِ لبیک یا رسول اللہ' نامی جماعت کے کارکنان لاہور سے ریلی کی صورت میں فیض آباد پہنچے تھے اور اس وقت سے یہاں دھرنا دیے ہوئے بیٹھے ہیں۔

اس جماعت کا مطالبہ ہے کہ انتخابی اصلاحات ایکٹ میں ختمِ نبوت سے متعلق حلف نامے میں ردوبدل کرنے والے افراد کی نشاندہی کر کے انھیں سامنا لایا جائے اور وفاقی وزیر قانون زاہد حامد مستعفی ہوں۔

حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ حلف نامے میں ختم نبوت سے متعلق الفاظ 'سہواً' تبدیل ہو گئے تھے جنہیں فوری طور پر اصل حالت میں بحال کر دیا گیا تھا۔

جہاں احتجاج کرنے والوں نے دھرنا دے رکھا ہے وہاں سے ایک مرکزی سڑک راولپنڈی سے اسلام آباد، مری اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی طرف جاتی ہے جب کہ ایک مرکزی شاہراہ اسلام آباد کو فضائی اڈے اور جی ٹی روڈ سے ملاتی ہے۔

مرکزی چوک کے بند ہونے کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں افراد کی جڑاوں شہروں کے درمیان نقل و حرکت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

اس معاملے کے حل کے لیے حکومت کی طرف سے مذاکراتی عمل بھی شروع کیا گیا ہے لیکن اس ضمن میں بننے والی کمیٹیوں اور مشاورت کے متعدد ادوار کے باوجود صورتِ حال جوں کی توں برقرار ہے۔

دھرنے کے اردگرد پولیس اور ایف سی کے سیکڑوں اہلکار بھی تقریباً 17 دنوں سے تعینات ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ انتظامیہ کو شاہراہ سے دھرنے والوں کو ہٹانے کا حکم دے چکی ہے لیکن وفاقی وزیرِ داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ حکومت طاقت کے ذریعے احتجاج کرنے والوں کو منتشر نہیں کرنا چاہتی کیونکہ ان کے بقول 'دھرنے میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو خون خرابہ چاہتے ہیں۔'

ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ بھی اس دھرنے کا از خود نوٹس لے چکی ہے۔

وزیر داخلہ کی طرف سے دھرنے کا معاملہ 'آج کل، آج کل' میں حل کرنے، عدلیہ کی طرف سے نوٹسز لیے جانے اور راستے کی بندش کی وجہ سے کم از کم دو افراد کے ہلاک ہونے کے باوجود یہ معاملہ فی الوقت جلد حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

ایسے میں منگل کو دیر گئے دھرنے کے قائدین سے مذاکرات کے لیے حکومت نے ایک اور کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں صرف اسی مسلک (بریلوی) سے تعلق رکھنے والے چھ اکابرین شامل ہیں جس مسلک کے پیروکاروں نے دھرنا دے رکھا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG