رسائی کے لنکس

logo-print

برفانی تودے کے متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیاں بحال


وادی نیلم

موسم کی خرابی کے باعث معطل ہونے والی امدادی کارروائیاں جمعرات کے روز دوبارہ شروع کی گئیں، جس دوران برفانی تودے کے نیچے دبنے والے مزید دو افراد کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، وادی نیلم میں برفانی تودوں کی زد میں آکر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 75 ہوگئی ہے۔

جمعرات کے روز پاکستان آرمی نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کنٹرول لائن پر واقع برفانی سلائیڈ کی زد میں آنے والے ڈھکی چکناڑ گاؤں سے چھ زخمیوں کو مظفر آباد منتقل کیا، جبکہ مظفرآباد میں مقیم ڈھکی چکناڑ سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کو اس گاؤں میں اپنے رشتہ داروں کو تودوں سے نکالنے اور دفن کرنے کے لیے وہاں پہنچایا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر برائے ہنگامی صورت حال، احمد رضا قادری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران کہا کہ متاثرہ دیہات سے تاحال زمینی رابطہ قائم نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مسلسل تین روز تک جاری رہنے والی برف باری کی وجہ سے پیر کے روز برفانی تودوں کی زد میں آکر مرنے والے سرگن سیری گاؤں کے 22 افراد کو جمرات کے روز ایک اجتماعی قبر میں دفن کیا گیا۔

زمینی راستے بحال نہ ہو نے کی وجہ سے مظفرآباد یا اسلام آباد سے ابھی تک کوئی اعلیٰ حکومتی عہدیدار متاثرہ دیہات تک نہیں جا سکا۔

ان علاقوں سے رابطے کا واحد ذریعہ فوجی ہیلی کاپٹر بتائے جاتے ہیں۔

وادی نیلم سے سابق وزیر میاں عبدالوحید نے بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا امکان کم ہے۔

تاہم، انہوں نے بتایا کہ کچھ بستیاں ایسی ہیں جن کے بارے میں تاحال واضع نہیں کہ وہاں کی صورت حال کیا ہے۔

مظفرآباد میں مقیم متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں مرنے والوں کو دفن کرنے کے لیے بھی کوئی موجود نہیں ہے۔

اس سے قبل آنے والی غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق، برف باری اور تودے گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 100 سے زیادہ بتائی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG