رسائی کے لنکس

پاکستان پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے: جنجوعہ


ناصر جنجوعہ اور اوین جنکنز کے درمیان ملاقات اسلام آباد میں ہوئی۔

قومی سلامتی کے مشیر نے کہا ہے کہ ’’پاکستان اور افغانستان کو مضبوط سیاسی، سفارتی، فوجی اور انٹیلی جنس تعاون کی ضرورت ہے‘‘؛ اور یہ کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر، لیفٹننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان صورتحال پر امریکہ اور افغانستان کی طرف سے مثبت سوچ اور اعتماد کا خواہاں ہے۔ اُنھوں نے یہ بات برطانیہ کے نمائندہٴ خصوصی برائے افغانستان و پاکستان، اوین جینکن سے ملاقات کے دوران کہی۔

قومی سلامتی کے دفتر سے جاری ہونے والے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں دونوں فریق نے خطے میں امن کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر، تھامس ڈریو بھی موجود تھے۔

ناصر جنجوعہ نے کہا کہ ’’پاکستان اور افغانستان کو مضبوط سیاسی، سفارتی، فوجی اور انٹیلی جنس تعاون کی ضرورت ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔ اس ضمن میں، اُنھوں نے پاکستان آرمی چیف کے حالیہ دورہٴ افغانستان کا ذکر کیا۔

بقول ان کے، پاکستان آرمی چیف کےدورہٴ افغانستان سے ’’آگے بڑھنے کے لیے نیا دروازہ کھلا ہے۔‘‘

پریس رلیز کے مطابق، ناصر جنجوعہ نے کہا کہ ’’پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے لیے مکمل تعاون دینے کا خواہاں ہے‘‘؛ اور یہ کہ ’’پاکستان اور افغانستان کو مضبوط سیاسی، سفارتی، فوجی اور انٹیلی جنس تعاون کی ضرورت ہے‘‘۔

قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ ’’پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہنے پر یقین رکھتا ہے‘‘۔

اس موقع پر، برطانوی خصوصی نمائندے، اوین جینکن نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کی بہتری کے لیے پاکستان کی قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ برطانیہ خطے کے استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

دونوں فریقین نے خطے میں امن کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG