رسائی کے لنکس

logo-print

محسن داوڑ اور علی وزیر کو بیرونِ ملک جانے سے روک دیا گیا


محسن داوڑ اور علی وزیر (فائل)

عبداللہ ننگیال کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حکام نے دونوں رہنماؤ ں کو بتایا ہے کہ ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہیں جس کے باعث وہ بیرونِ ملک سفر نہیں کر سکتے

پاکستانی حکام نے پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے دو سرگرم رہنماؤں اور ارکانِ قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو بیرونِ ملک سفر سے روک دیا ہے۔

پی ٹی ایم کے ایک رہنما عبداللہ ننگیال نے ٹیلی فون پر ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا ہے کہ علی وزیر اور محسن داوڑ کو اپنے چھ دیگر ساتھیوں کے ہمراہ جمعے کی دوپہر پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے دبئی روانہ ہونا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ روانگی سے قبل ہوائی اڈے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حکام نے دونوں رہنماؤں کو بتایا کہ ان کے نام ’ایگزٹ کنٹرول لسٹ‘ میں شامل ہیں جس کے باعث وہ بیرونِ ملک سفر نہیں کرسکتے۔

عبداللہ ننگیال نے دعویٰ کیا کہ ایف آئی اے حکام نے دونوں رہنماؤں کے پاسپورٹ بھی قبضے میں لے لیے ہیں اور کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود نہ تو پی ٹی ایم کے رہنما ہوائی اڈے سے باہر آئے ہیں اور نہ ہی ان سے ٹیلی فونک رابطہ ہو پا رہا ہے۔

ان کے بقول، دونوں رہنما اپنے ساتھیوں کے ساتھ دبئی میں آباد پشتون تارکینِ وطن کی جانب سے منعقد کردہ ایک تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

عبداللہ نے بتایا کہ ’’کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود، ابھی تک وہ ایئرپورٹ سے باہر نہیں آئے نہ ہی اُن کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ ہو پا رہا ہے‘‘۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایمگریشن شعبے کے مقامی حکام نے اب تک اس سلسلے میں کوئی باضبطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

جولائی 2018ء کے عام انتحابات کے بعد صوابی ،بنوں، ڈیرہ اسماعیل اور دیگر شہروں اور قصبوں میں پختون تحفظ تحریک کے جلسوں اور احتجاجی مظاہروں کے بعد علی وزیر اور محسن داوڑ کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ دونوں رہنما ان میں سے کئی مقدمات میں عدالتوں سے ضمانت قبل از گرفتاری بھی کرا چکے ہیں۔

دراثنا، عبداللہ ننگیال نے کہا ہے کہ ’’تحریک سے منسلک کارکنوں کی رہائی کے لئے کوہاٹ جیل کے سامنے ہفتے کے روز پرامن مظاہرہ کیا جائے گا‘‘۔

محسن داوڑ اس سے قبل کئی بار بیرونِ ملک جا چکے ہیں اور انہوں نے گزشتہ ماہ ہی امریکہ کا دورہ کیا تھا۔

ادھر، ’پی ٹی ایم‘ کے ایک اور بیان کے مطابق، 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی یاد میں پشاور میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ ’اے پی ایس‘ کے واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے بنائے گئے کمیشن کی سفارش کے مطابق ذمہ دار افراد کو قرارِ واقعی سزا دی جائے۔

اس سلسلے میں، ’پی ٹی ایم‘ نے مزید تقریبات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے، اور کہا ہے کہ 16 دسمبر کو ایک بڑی تقریب منعقد کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG