رسائی کے لنکس

قبل از وقت انتخابات کے مطالبے پر سیاسی رہنماؤں کی تنقید


عمران خان (فائل فوٹو)

حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی راہنماؤں کی طرف سے عمران خان کو یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ ایسے بیانات دے کر جمہوریت اور جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکومت کی سب سے بڑی ناقد اور حزبِ مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے قبل از وقت انتخابات کرانے کے مطالبے کو حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور حزبِ مخالف کی اکثر جماعتوں نے مسترد کر دیا ہے اور مبصرین کا خیال ہے کہ ملک میں ایسی کوئی بحرانی صورتِ حال نہیں جس کے تناظر میں اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

عمران خان نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں انتخابات کا اعلان کر کے تازہ مینڈیٹ لینا چاہیے۔ ان کے بقول شاہد خاقان اب بھی نواز شریف کو اپنا وزیراعظم کہتے ہیں لہذا ان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

تاہم ان کے اس مطالبے کے سامنے آتے ہی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی راہنماؤں کی طرف سے عمران خان کو یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ ایسے بیانات دے کر جمہوریت اور جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پیر کو حزبِ مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر راہنما اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے بھی عمران خان کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہیے جس کے بعد ہی نئے انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت میں اتحادی پارٹی جماعت اسلامی نے بھی اس مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ انتخابات کے لیے قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کسی ایک جماعت کے مطالبے پر نہیں ہو سکتے۔

"تین چار پانچ مہینے قبل از وقت (انتخابات) ہم نہیں چاہتے کہ ان (حکمرانوں) کو شہادتوں کا موقع ملے اور اس لیے آئندہ الیکشن کارکردگی کی بنیاد پر ہوں۔ سب کو موقع ملنا چاہیے کہ اپنی کارکردگی کے ساتھ عوام کے پاس جائیں۔ ورنہ سب یہی کہیں گے کہ ہم تو آسمان کے تارے توڑنے والے تھے لیکن ہمیں تین چار مہینے اگر اور مل جاتے۔ تو اس لیے میرا خیال ہے کہ مدت پوری کرنا آئین کا بھی تقاضا ہے اور قوم و جمہوریت کے حق میں بہتر ہے۔"

سیاسی امور کے سینئر تجزیہ کار وجاہت مسعود کے نزدیک جمہوری معاشرے میں کسی بھی شخص اور سیاسی جماعت کو انتخابات کا مطالبہ کرنے کا حق ہے لیکن فی الوقت ایسی کوئی صورتِ حال نہیں ہے کہ جس میں نئے انتخابات کرانے کی بات کی جائے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ جس قومی اسمبلی نے نواز شریف کو وزیراعظم منتخب کیا تھا بعد میں اسی نے شاہد خاقان عباسی کو بھی قائد ایوان منتخب کیا اور اس وقت ملک میں دستوری طور پر حکومت برقرار ہے۔

وجاہت مسعود کے خیال میں جمہوریت میں جو بھی مطالبات سامنے آتے ہیں انھیں آئین اور سیاسی اصولوں کے تحت ہی دیکھا جاتا ہے اور ان کے بقول عمران خان کے مطالبے سے اختلاف کرنے والی سیاسی جماعتوں نے جمہوری طریقے سے اپنا حق استعمال کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG