رسائی کے لنکس

logo-print

سیلاب زدہ علاقوں میں بحالی کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے


غیر سرکاری امدادی تنظیم اوکسفیم نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کو ایک طویل المدتی آفت بننے سے روکنے کے لیے متاثر ہ علاقوں میں تعمیر نو کا عمل فوری طور پر شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

برطانیہ میں قائم اس فلاحی ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سکولوں، ہسپتالوں، سڑکوں،اور پلوں کی تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر درکار ہوں گے ۔

پاکستان میں اوکسفیم کی ڈائریکٹر نیوا خان کا کہنا ہے کہ اس بحران کو ایک ماہ گزرچکا ہے اور ہم توقع کر رہے تھے کہ صورت حال مستحکم ہو جائے گی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کا آغاز ہو چکا ہو گا۔ ”لیکن ابھی تک ہم پہلے مرحلے سے ہی نہیں نکل پائے ہیں کیونکہ اس آفت کی تباہ کاریوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کرنے، انھیں خیمے اور صاف پانی کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ “

انھوں نے کہا کہ تعمیر نو کے مرحلے کے آغاز کے لیے پاکستان سیلاب زدگان کو ہنگامی امداد فراہم کرنے کے مرحلے کے ختم ہونے کا انتظار کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

اوکسفیم نے متنبہ کیا ہے کہ کسانوں کی ایک بڑی تعداد ستمبر میں اپنی فصلوں کو کاشت نہیں کرپائے گی جب کہ سیلاب زدہ علاقوں میں صفائی ستھرائی کے کام میں کئی ماہ لگ جائیں گے جس کا مطلب ہے کہ لاکھوں لوگ سرد موسم میں عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہوں گے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بحالی کے عمل کی قیادت خود پاکستانی عوام کو کرنا ہو گی لیکن اس کے لیے انھیں آئندہ کئی سالوں تک بین الاقوامی برادری کی مدد اور حمایت کی ضرور ت ہو گی۔

XS
SM
MD
LG