رسائی کے لنکس

پانامہ لیکس : عدالت کی لندن فلیٹس پر توجہ مرکوز رکھنے کی ہدایت


فائل فوٹو
فائل فوٹو

عدالت نے تحریک انصاف کے وکیل سے کہا کہ محض سیاسی بیانات کی بنا پر کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران جمعرات کو عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ نے ایک مرکزی درخواست گزار تحریک انصاف کے وکلا سے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے لندن میں فلیٹس کی تحقیقات پر توجہ مرکوز رکھیں۔

تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ کے سامنے جمعرات کو سماعت کے دوران پاناما لیکس سے متعلق وزیراعظم نواز کی تین تقاریر کا مکمل متن پڑھ کر سنایا۔

اس پر عدالت نے کہا محض سیاسی بیانات کی بنا پر کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی اور ریمارکس کے دوران جج کی طرف سے کہا گیا کہ وہ وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے جمع کروائی گئی دستاویزات کی بنا پر سوالات اٹھائیں۔

ایک موقع پر جب حامد خان نے نواز شریف کی اتفاق فاؤنڈری قومیائے جانے اور پھر دیوالیہ ہونے کے بعد دوبارہ سے کاروبار کھڑا کرنے کی بات کے بعد کہا کہ "اب فلیٹس کی بات کرتے ہیں"، تو جسٹس عضمت سعید نے ان سے کہا کہ "آپ کیس کو آگے نہیں لے جا رہے، توجہ دیں۔"

وزیراعظم نواز شریف کے وکلا نے تحریک انصاف کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کو ناقابل قبول قرار دیا۔

حکومت کے عہدیداروں کا موقف ہے کہ تحریک انصاف کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے، اس معاملے کی آئندہ سماعت اب 29 نومبر کو ہو گی۔

سپریم کورٹ نے رواں ماہ کے اوائل میں ہی اس معاملے کی سماعت شروع کی تھی اور گزشتہ سماعت میں فریقین نے اپنے اپنے شواہد عدالت میں جمع کروائے تھے۔

XS
SM
MD
LG