رسائی کے لنکس

پاناما لیکس: اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کا ریکارڈ طلب


فائل فوٹو

پاکستان کی عدالت عظمٰی میں پاناما لیکس سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت جب جمعہ کو شروع ہوئی تو وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے اپنے دلائل کا آغاز کیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے قومی احتساب بیورو ’نیب‘ سے کہا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں اسحاق ڈار نے جو اعترافی بیان دیا تھا، اس کا ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے حدیبیہ پیپرز ملز سے متعلق مقدمے میں یہ اعتراف کیا تھا کہ اُنھوں نے ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر منی لانڈرنگ یعنی غیر قانونی طریقے سے رقم کو بیرون ملک منتقل کیا۔

تاہم وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے پانچ رکنی بینچ کے سامنے اپنے دلائل میں کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں اُن کے موکل سے منی لانڈرنگ کے بارے میں زبردستی اعترافی بیان لیا گیا۔

شاہد حامد نے کہا کہ بعد ازاں اسحاق ڈار نے اس اعترافی بیان کی تردید کی تھی۔

شاہد حامد کا کہنا تھا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں اسحاق ڈار ایک سال سے زائد عرصہ تک حراست میں رہے اور اُن پر یہ الزام ہے کہ اُنھوں نے ایک مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالرز کی منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔

لیکن شاہد حامد کے بقول اسحاق ڈار اس اعترافی بیان کی مکمل تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُن سے زبردستی پہلے سے لکھی گئی ایک تحریر پر دستخط کروائے گئے۔

جمعہ کو عدالت میں ہونے والی سماعت کے بعد وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ اسحاق ڈار ’’پہلے ہی احتساب سے گزر چکے ہیں۔۔۔ اور وہ ایسے بہت سے سوالوں کے جواب وہ دے چکے ہیں۔‘‘

مریم اورنگزیب نے کہا کہ اُن کی جماعت کے سربراہ اور وزیراعظم اپنی تین نسلوں کا حساب عدالت میں دے رہے ہیں۔

عمران خان نے سماعت کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ اسحاق ڈار مجسٹریٹ کی عدالت ’’منی لانڈرنگ کا اعتراف کر چکے ہیں‘‘ اور اُن کے بقول اس بارے میں عدالت میں ہونے والی پیش رفت بہت اہم ہے۔

عمران خان کا الزام ہے کہ نواز شریف کا خاندان منی لانڈرنگ کے ذریعے رقم باہر لے کر گیا۔

لیکن حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت اب 30 جنوری کو دوبارہ ہو گی۔

XS
SM
MD
LG