رسائی کے لنکس

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا کام 'آخری مرحلے' میں داخل


وزیراعظم اور ان کے بھائی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو چکے ہیں جب کہ مریم نواز کو پانچ جولائی کو طلب کیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)

وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے غیرملکی اثاثوں اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی سپریم کورٹ کے حکم پر تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا کام تقریباً آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے اور اس نے پیر سے بدھ تک وزیراعظم کے تینوں بچوں کو باری باری اپنے روبرو طلب کر رکھا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے اس ٹیم کو 60 روز میں تحقیقات مکمل کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی اور اس نے اپنا کام آٹھ مئی کو شروع کیا تھا۔ چھ رکنی ٹیم کو 10 جولائی تک یہ تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ تیار کرنی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کا کام شروع ہوتے ہی حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور اس کی سب سے بڑی ناقد حزب مخالف کی پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف پہلے سے جاری الزام تراشیوں میں تیزی آ گئی تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کر چکی ہے۔

مسلم لیگ ن تحقیقاتی ٹیم کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مبینہ طور پر ماورائے قانون اقدام کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے تو تحریک انصاف حکومتی عہدیداروں کے اس عدم اعتماد کو مبینہ طور پر احتساب سے بچنے کا حربہ قرار دیتی ہے۔

اتوار کو لاہور میں اپنی جماعت کے کارکنون سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے تحفظات کے باوجود تحقیقاتی عمل میں تعاون کیا ہے اور وہ اداروں کا احترام کرتی ہے لیکن ان کے بقول دیگر کو بھی چاہیے کہ وہ عوام کی منتخب کردہ حکومت کا احترام کرے۔

دوسری طرف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو میں ایک بار پھر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم اپنا کام کر رہی ہے لیکن ان کے بقول حکومتی وزرا "شریف خاندان کی چوری چھپانے میں لگے ہوئے ہیں۔"

مبصرین یہ کہتے آئے ہیں کہ اس تحقیقاتی عمل پر ہونے والی سیاست سے یہ معاملہ اب قانونی سے زیادہ سیاسی ہو چکا ہے۔

سینیئر تجزیہ کار عارف نظامی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ سامنے آنے سے سیاسی طور پر کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا۔

"میرا نہیں خیال کہ دونوں جماعتیں (مسلم لیگ ن، تحریک انصاف) کوئی اتنے زیادہ لوگوں کو سڑکوں پر لے آئیں گے، اگر نواز شریف کی نااہلیت پر معاملہ جاتا ہے تو مسلم لیگ ن کو پلان بی یعنی کوئی عبوری طور پر امیدوار سامنے لانا پڑے گا۔۔۔دوسری طرف عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کے ہوتے ہوئے ان کی دال نہیں گلے گی۔"

گزشتہ ماہ ہی وزیراعظم نواز شریف اور ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے علیحدہ علیحدہ پیش ہو چکے ہیں اور ان دونوں کا موقف تھا کہ انھوں نے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہوئے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG