رسائی کے لنکس

لاپتا افراد کے والدین کی حکومت اور فوج سے اپیل


جبری گمشدگیوں کے شکار افراد کے اہل خانہ مظاہرہ کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

لاپتا ہونے والے راغب عباس خان کے والد ساجد حسین نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار 21 ستمبر کو فیصل آباد میں واقع اس کے گھر سے ساتھ لے گئے تھے۔

رواں ماہ کے اوائل میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں سے چار مختلف سماجی کارکنوں کی گمشدگی کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا کہ گزشتہ سال لاپتا ہونے والے چار دیگر افراد کے اہل خانہ بھی اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے ذرائع ابلاغ کے ذریعے حکومت اور فوج سے مدد کی درخواست کرتے نظر آرہے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران گزشتہ سال لاپتا ہونے والے چار افراد کے والدین نے بتایا کہ ان کے بیٹے پنجاب کے مختلف شہروں سے اگست اور ستمبر کے درمیان "لاپتا" ہوئے۔

لاپتا ہونے والے راغب عباس خان کے والد ساجد حسین نے بتایا کہ ان کا بیٹا نیم سرکاری بیمہ کمپنی میں ملازمت کرتا تھا جسے مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار 21 ستمبر کو فیصل آباد میں واقع اس کے گھر سے ساتھ لے گئے تھے۔

بعد ازاں اس کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہ کیے جانے پر ساجد حسین نے عدالت سے رجوع کر کے بیٹے کی گمشدگی کی رپورٹ پولیس تھانے میں درج کروائی۔

ایک سابق فوجی اہلکار واجد علی نے کہا کہ ان کے دو بیٹوں وقار حیدر اور اکبر عمران کو بھی اسی طرح اگست میں لے جایا گیا تھا لیکن اب تک ان کا کچھ پتا نہیں چلا کہ وہ کس کی تحویل میں ہیں۔

چوتھا شخص ملک شبیر حسین آہیر سرگودھا سے لاپتا ہے۔

ان افراد کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ اگر ان کے بیٹوں نے کوئی غیرقانونی کام کیا ہے تو انھیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ انھوں نے حکومت اور فوج سے درخواست کی کہ وہ ان افراد کو منظر عام پر لانے میں مدد کریں۔

تاحال اس بارے میں حکام کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن ماضی میں مختلف افراد کی جبری گمشدگی کے الزامات عموماً ملک کے حساس اداروں پر عائد کیے جاتے رہے ہیں جنہیں حکام مسترد کرتے ہیں۔

پاکستان میں جبری گمشدگیوں خصوصاً جنوب مغربی صوبہ بلوچستان سے لوگوں کے لاپتا ہونے کا معاملہ ایک عرصے سے حکومت پر تنقید کا باعث بنا ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں ایک کمیشن بھی تشکیل دیا جا چکا ہے جس کی مداخلت سے اب تک درجنوں لاپتا افراد کا پتا چلایا جا چکا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی سربراہ زہرہ یوسف کہتی ہیں کہ ایسی گمشدگیوں کے معاملات جمہوریت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

"لوگوں کے اس طرح اٹھائے جانے کا سلسلہ کافی سالوں سے ہے مگر اس میں نیا پہلو یہ ہے کہ وہ (لوگ ) جو سماجی میڈیا پر سرگرم تھے ان کو اب اٹھا یا جارہا ہے اور اختلاف رائے اور تنقید کو اگر حکومت اور ریاستی ادارے برداشت نہیں کریں گے تو یہ جمہوریت کے لیے بہت خطرہ ہے۔"

ان کے بقول حکومت کو اس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا تھا کہ رواں ماہ لاپتا ہونے والوں کی بازیابی کے لیے کوششوں میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی یہ لوگ اپنے خاندان سے واپس جا ملیں گے۔

XS
SM
MD
LG