رسائی کے لنکس

logo-print

فیصل واڈا کے متنازع بیان پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی


فائل

قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ فیصل واڈا توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے کراچی سے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا اپنی وزارت کی وجہ سے کم اور اپنے تنازعات کی وجہ سے زیادہ جانے جاتے ہیں۔ لیکن، حالیہ دنوں میں وہ اپنے ایک متنازعہ بیان کی وجہ سے توہین مذہب کے نرغے میں آ رہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں مذہبی جماعتوں کے ارکان ان کے خلاف قرارداد مذمت لانا چاہ رہے تھے۔ لیکن، اسپیکر کی اجازت نہ ملنے پر انہوں نے اجلاس کی کارروائی کے دوران سپیکر ڈائس کے سامنے نماز ادا کرنا شروع کردی۔

اس معاملے میں ان کی مخالف پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پارلیمان کی مذہبی جماعتیں ملکر ایسی آگ سے کھیل رہی ہیں جسے ماضی میں بھی کئی دردناک واقعات پیش آچکے ہیں۔

فیصل واڈا نے تین مارچ کو ایک ٹی وی پروگرام کے دوران ایک بیان دیا اور کہا کہ اللہ کے بعد عمران خان سب سے عظیم شخص ہیں۔

اس بیان کے بعد اگرچہ انہوں نے اسی پروگرام کے دوران معذرت بھی کی۔ لیکن، فیصل واڈا کے لیے پارلیمان میں مشکلات بڑھتی جارہی ہیں جہاں ان کی مذمت کے لیے قرارداد لانے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ ان کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ فیصل واڈا توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں اور مسلمان نہیں رہے۔ اب انہیں دوبارہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونا پڑے گا۔

میمبر قومی اسمبلی عبدالشکور نے کہا کہ ’’ہم فیصل واڈا کی اس بات کو نہیں مانتے، کیونکہ اللہ کے رسولؐ، اللہ کے سب سے بڑے آدمی ہیں۔ انہوں نے یہ کہہ کر رسول اللہ کی توہین کی۔ پورے انبیائے کرام کی توہین ہوئی ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ان کو بڑی سے بڑی سزا ملنی چاہیے ان کو پھانسی دی جانی چاہیے‘‘۔

مولانا عصمت اللہ نے کہا کہ ’’اللہ کے بعد صرف نبی کریمؐ سب سے بڑے انسان ہیں۔ ان کے بعد پھر سب ہیں۔ اگر انہوں نے یہ دانستہ طور پر کہا ہے تو وہ اسلام سے خارج ہوگیا ہے۔ اب ان کو دوبارہ ایمان لانا ہوگا‘‘۔

شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ ’’اللہ کے محبوب کی آن کو بار بار بیان کیا گیا ہے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ شان و شوکت پیسے سے نہیں بلکہ اللہ کی دین سے ہوتی ہے، اگر وہ سمجھتا ہے کہ یہ اقتدار عمران خان نے دیا ہے تو وہ کسی غلط فہمی کا شکار ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’بات کرنے سے پہلے غور کرلینا چاہیے۔ فیصل واوڈا نے یہ بات کرکے بہت ہی کم عقلی کا مظاہرہ کیا۔ فیصل واڈا کو اس ایوان میں آکر معافی نہیں مانگتنی چاہیے بلکہ دوبارہ ایمان میں داخل ہونا چاہیے۔ اگر کسی کا تمام انبیاء پر ایمان نہیں وہ مسلمان ہی نہیں ہے‘‘۔

اس معاملے کو وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نےسنبھالنے کی کوشش کی اور کہا کہ اس ایوان میں کوئی ایسا شخص نہیں جو اس سے اختلاف رکھتا ہو۔ پورا ایوان غلامان مصطفےٰؐ سے بھرا ہے۔ کوئی ایسا شخص موجودنہیں ہے جس میں عشق رسول موجود نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ فیصل واڈا اب موجود نہیں ہے وہ اس حوالے سے خود وضاحت دیں گے۔

اس معاملے میں سب سے بہتر کردار پاکستان پیپلز پارٹی کا ہے جو اس معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے احتیاط اور حکومت کو علمائے کرام سے بیٹھ کر معاملہ حل کرنے کی تجویز دے رہی ہے۔

خورشید شاہ کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں اتحاد کو قائم رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس سے قبل فیاض الحسن چوہان نے ہندو برادری کے لیے غلط زبان استعمال کی جس پر انہیں مستعفی ہونا پڑا۔ اب کوئی چوہان کا معاملہ اٹھا رہا ہے کوئی کچھ اور مسائل اٹھا رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ اس واقعے کو حل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں احسن اقبال اور خواجہ آصف پر حملہ ہو چکا ہے، جبکہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا واقعہ بھی ہمارے سامنے ہے۔

اس معاملے پر فیصل واڈا کی طرف سے سامنے نہ آنے اور حکومت کی طرف سے کوئی عملی قدم نہ اٹھائے جانے کی وجہ سے اب پنجاب اسمبلی میں فیصل واڈا کے استعفیٰ کے مطالبے کی قرارداد جمع کرادی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فیصل واڈا کے ریمارکس نہ صرف توہین آمیز ہیں بلکہ آئین پاکستان کے بھی خلاف ہیں۔ جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ لہٰذا، وہ فوری طور پر مستفی ہوں۔

یہ معاملہ بدھ کے روز قومی اسمبلی میں یہاں تک پہنچا کہ جے یو آئی کے مولانا اسعد محمود نے سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے قرارداد مذمت پیش کیے جانے کی اجازت نہ ملنے پر اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسمبلی ہال کے اندر اسپیکر ڈائس کے سامنے نماز مغرب ادا کرنا شروع کردی۔

اسعد محمود نے امامت کی اور کئی ارکان اسمبلی جن میں (ن) لیگ کے خواجہ آصف اور احسن اقبال بھی شامل تھے اسعد محمود کی امامت میں نماز ادا کی۔ اس موقع پر سپیکر نے اجلاس پندرہ منٹ کے لیے ملتوی کر دیا۔

توہین مذہب کا معاملہ پاکستان میں حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے اور اس میں ایک لفظ یا ایک بیان جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان کے اپنے گارڈ نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ گذشتہ دور حکومت میں الیکشن کے فارم میں تبدیلی کا الزام لگا کر 22 دن تک فیض آباد میں دھرنا دیا گیا اور زاہد حامد کو وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس کے علاوہ اگر عام شہریوں کو دیکھیں تو اب تک کئی افراد کو ہلاک کیا جاچکا ہے، جبکہ آسیہ بی بی سمیت کئی افراد کو کئی سال پابند سلاسل رہنا پڑا۔

فیصل واڈا اگرچہ اب تک ملک میں آبی وسائل کے حوالے سے کوئی انقلاب نہیں لاسکے، لیکن کبھی کراچی قونصلیٹ پر حملہ کے بعد ہاتھ میں پستول لیکر جانے اور بھارتی جہاز کے ملبے پر پاکستانی پرچم لیکر کھڑے ہونے تک مختلف معاملات میں شہرت حاصل کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب کی بار جس معاملے میں ان کا نام آرہا ہے اگر مذہبی جماعتوں نے اس پر زیادہ زور دیا تو ان کی زندگی کو خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG