رسائی کے لنکس

logo-print

غیرملکی امداد لانے میں بنیادی کردار جنرل باجوہ کا ہے، شہباز شریف


پاکستان کی قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف، فائل فوٹو

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ دوست ممالک کی جانب سے پاکستان کو جو امداد مل رہی ہے اس میں وزیراعظم یا حکومت کا کوئی کمال نہیں ہے۔ امداد ملنے میں سارا کردار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ارکان قومی اسمبلی نے چیئرمین نیب کو ملاقات کے لئے خط کیوں لکھا؟ چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ کے سامنے حاضر ہونا چاہیے۔ ہم چیئرمین نیب کے سامنے کیوں جائیں۔

پیر کے روز ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس ہنگامہ خیز رہا اور شہباز شریف کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان کی طرف سے نعرہ بازی اور مبینہ طور پر گالی دیے جانے کے باعث اپوزیشن نے اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا۔

آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم چیئرمین نیب کے سامنے پیش ہوں۔، ہم ان کے سامنے کیوں جائیں؟ چیئرمین نیب کو چاہئے کہ وہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہوں۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ نیب کو ٹائٹ کرے،تاکہ ملک چلنے لگے۔

سابق صدرزرداری کا کہنا تھا کہ مجھے نیب کو کوئی ڈر نہیں۔ میں نے بہت نیب دیکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں پہلے بھی نیب کے سامنے پیش ہوتا رہا ہوں اور آئندہ بھی ہوتا رہوں گا، لیکن مجھے فکر آپ لوگوں کی ہے۔ اگر حکومت کے ارکان کو بھی نیب کے سامنے پیش ہونا پڑا تو پھر اس دن آپ کا کیا بنے گا۔ مجھے آپ کا غم زیادہ ہے اپنا نہیں۔

آصف زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کے حوالے سے کہا کہ مریم نواز یا اور کسی کی بہن بیٹی کو جیل میں نہیں دیکھنا چاہتے۔

دوسری جانب شہباز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو قرض آرمی چیف کی وجہ سے مل رہے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر نے مہمند ڈیم کے ٹھیکے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ڈیموں کی ضرورت ہے تاہم جس طرح ٹھیکہ دیا گیا وہ بڑا سوال بن گیا ہے۔ سنگل بڈ آئی تو کیا جلدی تھ۔، پراسیس دوبارہ کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں بڈنگ پراسیس کو فالو کیا گیا۔ انتہائی شفاف طریقے سے 3600 میگا واٹ کے 3 بجلی گھر لگائے گئے۔

مہمند ڈیم کا معاملہ اسمبلی میں آیا تو وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے بھی جواب دینا ضروری سمجھا اور کہا ایوان میں مہمند ڈیم کے حوالے سے غلط بیانی کی گئی۔، یہ ساری سازش ڈیم کو بننے سے روکنے کے حوالے سے ہے۔ اگر ان کو پیپرا رولز کی انگلش میں سمجھ نہیں آتی تو اگلی دفعہ میں اردو میں لے کر آؤں گا۔

فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اپوزیشن میں ہماری بات سننے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ کام ایسے کیوں کیے جس سے ان کو منہ چھپانا پڑتا ہے۔ ایک مجرم جیل سے آ کر تقریر کر کے عوام کو گمراہ کرتا ہے۔ جب ہم ایوان کو حقائق بتاتے ہیں تو ان کو تکلیف ہوتی ہے۔ ہم ان کو تکلیف دیتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 54 سال سے ڈیم کا منصوبہ نامکمل تھا۔ قوم کو مس گائیڈ کیا گیا۔ شہباز شریف کو مسئلہ یہ ہے کہ ڈیم کیوں بنایا جا رہا ہے۔ اب ڈیم کسی صورت نہیں رکے گا، ہم اسے مکمل کریں گے۔

فیصل واوڈا کی تقریر سے قبل اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف ایوان سے باہر جانے لگے لیکن سپیکر کے کہنے پر سیٹ پر واپس آ گئے اور کہا کہ میں گالی گلوچ پر یقین نہیں رکھتا، میں نے گالی گلوچ سنی ہے اس لئے جا رہا ہوں۔

اس موقع پر رکن اسمبلی طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اگر اس طرح الزام لگا کر باہر جائیں گے تو ہم آئندہ انہیں بات نہیں کرنے دیں گے۔ لیگی راہنما خواجہ آصف نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں نہ وزیراعظم آتے ہیں اور نہ ہی وزیر خزانہ۔ اس طرح کی دھمکیوں سے ایوان نہیں چلے گا۔ اس کے بعد اپوزیشن اراکین نے واک آؤٹ کیا تو شور شرابہ شروع ہو گیا۔شیری مزاری اور شگفتہ جمانی کے درمیان تلخی ہوئی لیکن اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد کورم پورا رہا جس کے بعد کچھ دیر کے لیے ایوان چلا اور پھر منگل تک اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG