رسائی کے لنکس

logo-print

امن مذاکرات پر سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے: وزیراعظم


وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں خود کو طالبان سے مذاکراتی عمل کا حصہ سمجھیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے وفاقی وزیر داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ طالبان سے مجوزہ مذاکرات کے عمل میں ہونے والی پیش رفت پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیں۔

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان سے ملاقات کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے کل جماعتی اجلاس میں حکومت کو طالبان سے مذاکرات کرنے کا مینڈیٹ دیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں خود کو اس مذاکراتی عمل کا حصہ سمجھیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے ملک میں امن کا قیام ضروری ہے۔

واشنگٹن کا دورہ مکمل کر کے وزیر اعظم نواز شریف جمعہ کو پاکستان واپس پہنچے تھے۔

اُنھوں نے امریکہ میں صدر براک اوباما سے ملاقات میں بھی طالبان سے مجوزہ مذاکرات کی حکومت کی کوششوں پر بات چیت کی تھی۔

تجزیہ کار حسن عسکری کہتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کے بارے میں سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں لینا حکومت کے لیے سود مند ہو گا۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت کو اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ بات چیت کا عمل کیسے آگے بڑھانا چاہتی ہے۔

دریں اثنا وزیر اعظم نواز شریف نے تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو خط لکھ کر اُنھیں تحفظ پاکستان آرڈیننس کے مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے ریاست مخالف عناصر اور منظم جرائم میں ملوث گروہوں کو سخت پیغام دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے تحفظ پاکستان آرڈیننس کا مجوزہ مسودہ بھی سیاسی رہنماؤں کو بھیجا اور اس اُمید کا اظہار کیا کہ نئے قانون کی منظوری میں بھی سیاسی جماعتیں حکومت کی مدد کریں گی۔

حکومت کی عمل داری میں کمی کا الزام وزیر اعظم نے ماضی کے آمرانہ ادوار حکومت اور ناقص طرز حکمرانی پر عائد کرتے ہوئے خط میں لکھا کہ دور افتادہ علاقوں کے ساتھ ساتھ شہروں اور قصبوں میں بھی شرپسند عناصر کی محفوظ پناہ گاہوں کا قیام ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔

تحفظ پاکستان آرڈیننس کے تحت دہشت گردی اور خوف و ہراس پھیلانے والوں کو ملک دشمن عناصر تصور کیا جائے گا جب کہ اس کے تحت حکومت کی عملی داری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG