رسائی کے لنکس

logo-print

روس سے کثیر الہجتی تعلقات کے خواہاں ہیں: نواز شریف


وزیراعظم نواز شریف نے صدر پوٹن سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان روس سے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، واضح رہے طویل عرصے تک تعلقات میں سرد مہری کے بعد پاکستان اور روس کے درمیان رابطوں میں حال میں بہتری آئی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اُن کا ملک روس سے کثیہر الجہتی تعلقات چاہتا ہے، جس میں تجارت، دفاع اور توانائی کے شعبے بھی شامل ہیں۔

اُنھوں نے یہ بات روس کے شہر ’اوفا‘ میں صدر ولادیمر پوٹن سے ملاقات میں کہی۔

وزیراعظم نواز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے روس میں تھے، جہاں ان کی چین کے صدر شی جنپنگ کے علاوہ افغان صدر اشرف غنی اور بھارت کے وزیراعظم نریندرمودی سے بھی الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے صدر پوٹن سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان روس سے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی مستقل رکنیت کے معاملے پر روس کی حمایت پر بھی وزیراعظم نواز شریف نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی صدر ولادیمر پوٹن سے یہ پہلی ملاقات تھی۔ وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کی طرف سے کہا گیا کہ یہ اعلیٰ سطحی رابطہ روس اور پاکستان میں تعاون کے فروغ کا سبب بنے گا۔

صدر پوٹن نے شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقل رکن بننے پر پاکستان کو مبارکباد دی۔ ’اوفا‘ میں ہونے والے اجلاس میں تنظیم کی سربراہی کونسل نے پاکستان اور بھارت کو مستقل رکن کا درجہ دینے کی منظور دی تھی۔ اب کچھ قانونی تقاضوں کو پورا کیا جانا باقی ہے، جس کے بعد باقاعدہ طور پر پاکستان اس تنظیم کا مستقل رکن بن جائے گا۔

طویل عرصے تک تعلقات میں سرد مہری کے بعد پاکستان اور روس کے درمیان رابطوں میں حال میں بہتری آئی ہے۔

گزشتہ سال روس کے وزیر دفاع کے دورہ پاکستان کے دوران دفاعی شعبے میں تعاون کے ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے تھے۔

رواں سال جون ہی میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی روس کا دورہ کیا تھا، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے، عسکری سطح کے تبادلوں اور مشترکہ مشقوں سے استفادہ کرنے سے متعلق معاملات پر غور کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال روس نے اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی فروخت کے سلسلے میں پاکستان پر عائد پابندی اٹھا لی تھی جس کے بعد سے روسی ساخت کے ہیلی کاپٹروں کی خریداری کے لیے پاکستان کی طرف سے بات چیت کی جار ہی ہے۔

XS
SM
MD
LG