رسائی کے لنکس

logo-print

پٹرول کی بلا تعطل فراہمی کے لیے متعلقہ وزارتیں رابطے بہتر بنائیں: وزیراعظم


پٹرولیم مصنوعات کی قلت کے باعث پیدا ہونے والے بحران کے پیش نظر وزیراعظم نواز شریف نے بدھ کو اپنا سوئٹزرلینڈ کا دورہ بھی منسوخ کردیا۔ انھیں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس جانا تھا۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے تمام متعلقہ وزارتوں کو ملک میں پٹرول کی بلا تعطل فراہمی کے لیے روابط کو بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قلت کے باعث پیدا ہونے والے بحران کے پیش نظر وزیراعظم روزانہ کی بنیاد پر متعلقہ محکموں اور وزیروں کے اجلاس کی صدارت کرتے آرہے ہیں جب کہ انھوں نے بدھ کو اپنا سوئٹزرلینڈ کا دورہ بھی منسوخ کردیا تھا۔

انھیں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس جانا تھا۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں آئندہ دو ماہ تک ملک میں پٹرول کی طلب اور رسد کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پٹرول کی صورتحال سے متعلق عوام کو آگاہ رکھا جائے تاکہ پٹرول کی قلت سے متعلق تاثر کو زائل کیا جا سکے۔

ان کے بقول عوام کے لیے یہ دشواری پیدا کرنے والے تمام ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

گزشتہ دس روز سے پاکستان کے سب سے زیادہ گنجان آباد صوبے پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پٹرول کی قلت کے باعث لوگوں کو شدید دشواری کا سامنا رہا لیکن گزشتہ دنوں کی نسبت اب صورتحال بتدریج بہتر ہونا شروع ہو گئی ہے۔

پاکستان کو گزشتہ کئی برسوں سے توانائی کے بحران کا سامنا ہے لیکن ملک کی حالیہ تاریخ میں پہلی بار پٹرول کی اس حد تک شدید قلت دیکھنے میں آئی۔ یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی تھیں کہ فرنس آئل کا ذخیرہ بھی کم ہونے کی وجہ سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے لیکن حکام نے اس تاثر کو بھی رد کیا ہے۔

پٹرولیم کے وزیر شاہد خاقان عباسی یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ صورتحال پٹرول کی طلب اور رسد میں اچانک بڑھ جانے والے فرق سے پیدا ہوئی جس کی پیش بینی نہیں کی گئی تھی۔ عہدیداروں کے بقول گزشتہ تین روز میں پٹرول کی سپلائی کو دو گنا تک بڑھا دیا گیا ہے۔

گزشتہ تین ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں قابل ذکر کمی کی جا چکی ہے جب کہ حکام عندیہ دے چکے ہیں کہ اس میں آئندہ ماہ مزید کمی کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG