رسائی کے لنکس

logo-print

وسط مدتی انتخابات کا مطالبہ مسترد


فائل فوٹو

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے وسط مدتی انتخابات کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے قومی اسمبلی کو ایک مرتبہ پھر یقین دلایا ہے کہ ملک میں مارشل لا کا کوئی امکان نہیں ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں عوام کے ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں آئی ہیں اور وہ موجودہ پارلیمان کا تحفظ اپنا فرض سمجھتی ہیں۔

اُنھوں نے سیاسی مخالفین کی جانب سے حکومت پر کی جانے والی تنقید اور انتظامی امور کو درست راہ پر لانے کے لیے ملک میں وسط مدتی انتخابات کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کی خواہشات کی تکمیل نہیں کر سکتے۔

کسی مخصوص جماعت یا طبقے کی طرف اشارہ کیے بغیر اُن کا کہنا تھا کہ وسط مدتی انتخابات کی باتیں کرنے والے قوم اور پالیمان کے ساتھ مخلص نہیں ہیں، اور اُن کے بقول یہ لوگ ”ملک توڑنے کی سازش کرنا چاہ رہے ہیں“۔

اُن کا کہنا تھا کہ وسط مدتی انتخابات کا ایک ہی آئینی طریقہ ہے کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی تحلیل کریں لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیئے کہ فوج مارشل لا لگائے گی کیوں کہ وہ جمہوریت کی حامی ہے۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی بعض جماعتوں کی طرف سے پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت پر بدعنوانی اور غیر موزوں طرز حکمرانی کے الزامات میں حالیہ دنوں میں تیزی آئی ہے۔

ایک روز قبل قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے اپنے بیان میں حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ تبدیلی کا ایک آئینی راستہ وسط مدتی انتخابات بھی ہیں۔

XS
SM
MD
LG