رسائی کے لنکس

logo-print

انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے علما کردار ادا کریں: وزیراعظم


وزیراعظم نے اس موقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر اسلام اور پاکستان کا نام غلط طور پر استعمال کر کے ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے علماء و مشائخ پر زور دیا ہے کہ وہ ملک سے انتہا پسندی و دہشت گردی کے خاتمے اور برداشت و بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔

وزیراعظم نے یہ بات جمعہ کو ملک کے معروف مذہبی علماء اور دانشوروں سے گفتگو میں کہی جنہوں نے اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت لوگوں کو سماجی و اقتصادی انصاف فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے اور اس نے کابینہ کی ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے جو اصلاحات کے بارے میں سفارشات مرتب کرے گی۔

وزیراعظم نے اس موقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر اسلام اور پاکستان کا نام غلط طور پر استعمال کر کے ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سرکاری بیان میں وزیراعظم کی اس بات کی مزید وضاحت تو نہیں کی گئی لیکن بظاہر ان کا اشارہ حکومت مخالف جماعتوں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی طرف تھا۔

یہ دونوں جماعتیں تقریباً پچاس روز سے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام آباد میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا موقف ہے کہ مسلم لیگ ن گزشتہ عام انتخابات میں مبینہ طور پر دھاندلی کر کے حکومت میں آئی اس لیے وزیراعظم کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔

اس جماعت نے اپنے احتجاج کا دائرہ بڑھاتے ہوئے ملک کے مختلف علاقوں میں جلسے کرنا بھی شروع کر دیے ہیں جن میں عمران خان حکومت اور وزیراعظم پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔

احتجاج کرنے والی دوسری جماعت پاکستان عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری بھی ملک کے نظام میں تبدیلی لانے کے لیے اپنے حامیوں کا "انقلاب مارچ" لے کر 15 اگست سے اسلام آباد میں براجمان ہیں۔

اس احتجاج کی وجہ سے ملک میں سیاسی کشیدگی بظاہر سنگین صورت اختیار کر چکی ہے کیونکہ مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی اب تک کی جانے والی تمام کوششیں بارآور ثابت نہیں ہو سکی ہیں۔

وزیراعظم اور دیگر حکومتی عہدیدار احتجاج کرنے والی جماعتوں کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر یہ کہتے آئے ہیں اس احتجاج اور دھرنے کی وجہ سے ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

دریں اثناء سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوششیں اب بھی جاری ہیں اور جمعہ کو پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری نے کراچی سے لاہور پہنچنے کے بعد منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے ملاقات کی۔

اس سے قبل بھی اگست اواخر میں بھی آصف علی زرداری نے جماعت اسلامی کے امیر سے ملاقات کی تھی۔

جمعہ کو ہونے والی ملاقات میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پیپلز پارٹی کے دیگرسینیئر رہنما بھی شریک تھے۔

XS
SM
MD
LG