رسائی کے لنکس

logo-print

قبائلی عمائدین انسداد ِپولیو مہم میں کردار ادا کریں: ممنون حسین


صدر نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں اور خصوصاً فاٹا میں پولیو کے کیسز کا پایا جانا یقیناً ہم سب کے لیے باعثِ پریشانی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران 85 میں سے 60 پولیو کیسز کا فاٹا کے علاقوں میں ہونا لمحہ فکریہ ہے۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے ہفتہ کو پشاور میں ملک کے قبائلی علاقوں کے عمائدین کے ایک جرگے سے خطاب میں کہا کہ پولیو جیسے خطرناک مرض کے خاتمے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

اُنھوں نے علمائے دین اور قبائلی رہنماؤں سے کہا کہ پاکستانی بچوں کو پولیو وائرس سے بچاؤ کے لیے وہ اپنا بھرپور اور موثر کردار ادا کریں۔

صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے اُن تین ممالک میں ہوتا ہے جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے اور بچے اس کا شکار بن رہے ہیں۔

’’ملک کے مختلف حصوں اور خصوصاً فاٹا میں پولیو کے کیسز کا پایا جانا یقیناً ہم سب کے لیے باعثِ پریشانی ہے۔ (گزشتہ سال کے دوران) 85 میں سے 60 کیسز کا فاٹا کے علاقوں میں ہونا نہ صرف لمحہ فکریہ ہے بلکہ اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیو کے خلاف جنگ میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور ہم سب کو مل جل کر اس خطرناک مرض کے خلاف جدوجہد کرنی ہے۔‘‘

پاکستانی صدر کا کہنا تھا کہ انسداد پولیو مہم سے متعلق غلط فہمیوں کے تدارک کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

’’اسلامی نقطہ نگاہ سے بھی پولیو کا علاج نہایت جائز اور ضروری ہے …. مسلم دنیا کے جیّد علماءنے اپنے فتوؤں کے ذریعے پولیو کے قطروں کو حلال اور جائز قرار دیا ہے ۔ پاکستان کے علماء نے بھی اس کی تائید کی ہے لہٰذا اس سلسلے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ ہم سب کو چاہیے کہ پولیو کے سلسلے میں کی جانے والی حکومتی کوششوں کا بھرپور ساتھ دیں اور اس سلسلے میں چلائی جانے والی ہرمہم کو کامیاب بنائیں۔‘‘

نائیجیریا اور افغانستان کے علاوہ پاکستان دنیا کا وہ تیسرا ملک ہے جہاں انسانی جسم کو مفلوج کر دینے والے پولیو کے وائرس اب بھی موجود ہے۔

گزشتہ دو برسوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں رپورٹ ہونے والے پولیو وائرس کا تعلق بھی پاکستان میں موجود وائرس سے بتایا جاتا ہے۔

حال ہی پڑوسی ملک بھارت نے اپنے ملک آنے کے خواہشمند پاکستانی مسافروں کے لیے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینا لازمی قرار دے دیا ہے جب کہ حج اور عمرہ کے لیے جانے والوں پر سعودی عرب نے بھی پولیو ویکسین کی شرط عائد کر رکھی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں حالیہ مہینوں میں ایک بار پھر انسداد پولیو کی ٹیموں پر جان لیوا حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں نا صرف خواتین رضا کاروں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے جب کہ ان کے حفاظت پر معمور سیکورٹی اہلکار بھی ان حملوں کا نشانہ بنے۔

انسداد پولیو کی ٹیموں پر ان حملوں کے انسانی جسم کو اپاہج کرنے والے اس وائرس کے خلاف سرکاری مہم بظاہر متاثر ہوئی ہے۔ خیبر پختونخواہ میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے رہنماء عمران خان نے حال ہی میں ملک کے معروف عالم دین مولانا سمیع الحق سے بھی ملاقات کی تھی جن کے مدرسے نے ایک فتوے میں کہا تھا کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا غیر اسلامی فعل نہیں ہے۔ مولانا سمیع الحق کا شمار ملک کے بااثر مذہبی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

عمران خان یہ بھی کہہ چکے ہیں انسداد پولیو کی ٹیموں میں شامل افراد کو تحفظ فراہم کرنے سمیت انھیں درپیش تمام مسائل کو حل کیا جائے گا کیونکہ اُن کے بقول یہ آنے والی نسل اور ملک کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG