رسائی کے لنکس

logo-print

سیاسی تنازعات کی کوریج میں پاکستانی صحافی آزاد ہیں: رپورٹ


رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 180 ملکوں میں پاکستان کا نمبر ایک سو انسٹھواں تھا جو رواں سال 12 درجے بہتری کے ساتھ اب ایک سو سینتالیسویں نمبر پر آگیا ہے۔

صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک موقر بین الاقوامی تنظیم نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں گوکہ صحافیوں کو مختلف طرح کے خطرات اور دباؤ کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود سیاسی تنازعات کی کوریج کرنے میں پاکستانی ذرائع ابلاغ ایشیا میں سب سے زیادہ آزاد میڈیا میں سے ایک ہیں۔

رپورٹر ود آؤٹ بارڈرز نامی تنظیم کی آزادی صحافت سے متعلق عالمی فہرست میں پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 180 ملکوں میں پاکستان کا نمبر ایک سو انسٹھواں تھا جو رواں سال 12 درجے بہتری کے ساتھ اب ایک سو سینتالیسویں نمبر پر آگیا ہے۔

پاکستان کے ایک سینیئر صحافی اور صحافیوں کے حقوق کے ایک سرگرم کارکن مظہر عباس بھی متفق ہیں کہ ملک میں سیاسی معاملات کی خبر نگاری اور مباحثوں میں میڈیا ماضی کی نسبت زیادہ آزاد ہے۔

"عموماً اگر ہم دیکھیں تو صحافیوں کو سنسرشپ کا اس طرح کے دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ بعض صورتحال میں اگر کسی سیاستدان کا کسی میڈیا چینل یا اس کے مالک پر اثر و رسوخ ہے تو وہ خبر بھی رکوا دیتے ہیں یا اس کی پیروی کو روک دیا جاتا ہے لیکن ماضی کی نسبت اگر ہم دیکھیں تو سیاسی معاملات کے حوالے سے میڈیا کو خاصی آزادی حاصل رہی ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ صحافیوں کے لیے سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈالنا نسبتاً آسان ہوتا ہے اور وہ جمہوری طریقے سے اپنے اس حق کے لیے احتجاج بھی کرتے ہیں اور اس بنا پر آزادی صحافت پر قدغن لگانا مشکل ہوتا ہے۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اپنی رپورٹ میں پاکستان میں میڈیا کو درپیش خطرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ کو انتہا پسندوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں، دونوں ہی کی طرف سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں مظہر عباس کا کہنا تھا کہ میڈیا کو درپیش خطرات کا تعلق ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال سے ہے۔

"بعض معاملات بہت حساس ہوتے ہیں کہ جس کی بنا پر میڈیا پر دباؤ آ جاتا ہے اس ایونٹ کی اگر کوریج نہیں کی جاتی تو ہم دیکھتے ہیں کہ میڈیا اس کا نشانہ بن جاتا ہے۔۔۔ اس کے لیے بدقسمتی سے باتیں تو بہت ہوتی رہتی ہیں لیکن جو حکمت عملی میڈیا کے مختلف فریقین کو بنانا چاہیے وہ اب تک نہیں بنا پائے ہیں۔ پیمرا کی ذمہ داری پر بھی بات ہوتی ہے لیکن میڈیا ہاؤسز اپنی ذمہ داری ابھی تک محسوس نہیں کر پا رہے۔"

حالیہ برسوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر ہلاکت خیز حملوں کے علاوہ میڈیا ہاؤسز پر بھی حملے ہو چکے ہیں جب کہ بعض واقعات میں سیکورٹی ایجنسیز کی طرف سے مبینہ طور پر کسی صحافی کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے یا ہراساں کیے جانے سے متعلق بھی خبریں منظریں عام پر آچکی ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صحافیوں کے لیے ایسا سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جس میں وہ اپنے فرائض غیر جانبداری کے ساتھ آزادانہ طور پر انجام دے سکیں لیکن اس کے باوجود صحافتی تنظیمیں اس ضمن میں کچھ زیادہ مطمئن دکھائی نہیں دیتیں۔

XS
SM
MD
LG