رسائی کے لنکس

logo-print

سیاسی جماعتوں نے جوابات عدالتی کمیشن میں جمع کروا دیے


بدھ کو لندن کے دورے پر موجود وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایسی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

مئی 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن کی طرف سے سیاسی جماعتوں سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات متعدد جماعتوں نے بدھ کو کمیشن میں جواب کروا دیے۔

پیر کو عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ناصر الملک سربراہی میں قائم تین رکنی کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے دریافت کیا تھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ انتخابات میں منظم دھاندلی کی گئی، دھاندلی کی منصوبہ بندی اور اس کا اطلاق کس نے کیا اور کیا اس منظم دھاندلی کے کافی ثبوت موجود ہیں۔

سیاسی جماعتوں سے ان کے جوابات دو روز میں جمع کروانے کا کہا گیا تھا۔

انتخابات میں دھاندلی پر سب سے زیادہ سراپا احتجاج رہنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اپنے جواب میں کہا کہ انتخابات کا تمام ریکارڈ الیکشن کمیشن اور حکمران جماعت کی تحویل میں ہے اور پی ٹی آئی کو متعلقہ انتخابی ریکارڈ اور شواہد تک براہ راست رسائی نہیں اور وہ پہلے ہی کافی ثبوت عدالتی کمیشن کو فراہم کر چکی ہے۔

پی ٹی آئی کے ایک مرکزی رہنما جہانگیر ترین نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اب تحقیقات کرنا عدالتی کمیشن کا کام ہے۔

"جس حلقے میں پولنگ بیگز میں بیلٹ پیپر کی بجائے ردی نکل رہی ہے اس کے ریٹرننگ افسر کو عدالت کو بلانا چاہیے۔ اس سے پوچھنا چاہیے کہ آپ نے ردی کہاں سے ڈالی اس میں یہ بات کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔"

تحریک انصاف کا موقف ہے کہ انتخابات میں مبینہ بوگس ووٹ پولنگ اسٹیشن پر موجود تھیلوں میں پڑے ہیں اور کمیشن ان تھیلوں کو کھولنے کا حکم دے تو اسے بہت سے شواہد مل سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی الزام لگائی آئی ہے کہ مسلم لیگ ن عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کر کے اقتدار میں آئی جسے حکومت مسترد کرتی ہے۔

بدھ کو لندن کے دورے پر موجود وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایسی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

"انھوں نے کہا کہ (ووٹوں کے) تھیلے کھولے جائیں اس میں ثبوٹ ہیں، تو اگر تھیلوں میں ثبوت ہیں تو آپ لوگوں کے پاس کیا ہے۔۔۔لاہور کے حلقے میں تھیلے کھولنے کا کہا تھا تو جب وہ کھلے تو اس میں ہماری برتری اور بڑھ گئی، پاکستان کے اندر اس طرح کی سیاسی نہیں ہونی چاہیے۔"

مسلم لیگ قائداعظم کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب میں کمیشن سے کہا گیا کہ وہ ملک کی طاقتور ترین انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی اور فوج کے خفیہ ادارے ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہوں کو دھاندلی سے متعلق گواہوں کے طور پر طلب کرے۔

متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے جمع کروائے گئے الگ الگ جوابات میں مشترک چیز یہ تھی کہ دونوں نے قبل از انتخابات دھاندلی کا موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعتوں کو شدت پسندوں کی طرف سے مہم چلانے سے باز رہنے کی دھمکیاں دی جاتی رہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما میاں افتخار حسین نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا۔

"ہمارے ساتھیوں کو ٹارگٹ کلنگ میں مارا گیا خودکش دھماکوں میں مارا گیا، یہاں تک کہ ہمیں مہم نہیں چلانے دی گئی۔ حکومت اور الیکشن کمیشن اس میں ناکام رہے کہ ہمیں برابری کا میدان فراہم کرے تاکہ ہم عوام میں جاکر ووٹ مانگ سکیں۔"

کمیشن کی کارروائی پانچ مئی تک ملتوی کرتے ہوئے کہا گیا کہ اب شہادتیں ریکارڈ کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے میڈیا سے درخواست کی کہ وہ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی سے متعلق بحث مباحثے میں احتیاط کرے بصورت دیگر یہ کارروائی بند کمرے میں منتقل کر دی جائے۔

XS
SM
MD
LG