رسائی کے لنکس

logo-print

تحریک انصاف کا ’سول نافرمانی‘ کی تحریک چلانے کا اعلان


پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ، عمران خان نے اتوار کے روز آزادی مارچ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے، ملک بھر میں سول نافرمانی تحریک چلانے کا اعلان کیا، اور بقول اُن کے، وزیر اعظم نواز شریف ’دو دن کے اندر مستعفی ہوجائیں‘

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ، عمران خان نے اتوار کے روز آزادی مارچ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے، سول نافرمانی تحریک چلانے کا اعلان کیا۔

اُنھوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ ’ٹیکس، گیس اور بجلی کے بل ادا نہ کریں‘۔

اُنھوں نے الزام لگایا کہ 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی، جس کے نتیجے میں تشکیل پانے والی اسمبلیوں اور حکمرانوں کو وہ نہیں مانتے۔ بقول اُن کے، ’پارلیمنٹ اور وزیر اعظم دونوں جعلی ہیں‘۔

اُن کے الفاظ میں، ’یہ جعلی حکومت ہے۔ آج سے میں ٹیکس نہیں دوں گا، نہ بجلی کا بل دوں گا۔ آپ، سارے پاکستانی بھی ایسا ہی کریں‘۔

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ وہ اور اُن کی جماعت جمہوریت چاہتے ہیں۔ ’ہم نہیں چاہتے کہ کسی انتشار کے نتیجے میں فوج کو آنا پڑے۔۔۔ لڑائی ہوگی، انتشار ہوگا، تو فوج کو آنا پڑے گا۔۔۔ میں جمہوریت چاہتا ہوں‘۔

عمران خان نے ریلی سے کہا کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے کے لیے ’دو دِن‘ کا وقت دیتے ہیں۔

ساتھ ہی، اُنھوں نے دھرنے کے شرکا سے وعدہ لیا کہ تب تک وہ کسی صورت، ’ریڈ زون‘ کے اندر داخل نہیں ہوں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ ’میں قوم کو عظیم قوم بنانے کے لیے تیار کروں گا، جو قائد اعظم بنانا چاہتے تھے۔۔۔ نیا پاکستان‘۔

اُنھوں نے پارٹی کارکنوں سے کہا کہ وہ ’مزید دو دِنوں تک دھرنے میں شرکت کریں‘، جس کے دوران، بقول اُن کے، ’پاکستان کی نئی تاریخ رقم ہوگی، جس کے بعد ہم ،مل کر جشن منائیں گے‘۔

اس سے قبل، موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق، حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد اقتدار کے لیے نہیں بلکہ ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اتوار کی صبح سویرے اسلام آباد میں اپنے کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کے استعفے اور اصلاحات کے بعد دوبارہ انتخابات کے مطالبات سے متعلق حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے دارالحکومت کے ریڈ زون نامی حساس علاقے کی طرف مارچ کیا جائے گا۔

ایک مقامی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مسٹر نواز شریف کے بطور وزیراعظم کے دن ان کے بقول پورے ہو چکے ہیں۔

’’قوم ظلم و زیادتیاں سہہ جائے، چپ کر کے تماشہ دیکھے آپ کے حکمران لوٹ رہے ہیں۔ کبھی ایک باری لیتا ہے تو کبھی دوسرا۔ باہر محلوں میں رہتے ہیں اور یہاں ٹیکس نہیں دیتے۔ کرپشن وہ کرتے ہیں۔ آج میں اپنی قوم کو بتانے لگا ہوں ہم اور یہ برداشت نہیں کرنے والے۔‘‘

عمران خان نے اس بات کو واضح کیا کہ ان کا نواز شریف یا ان کے خاندان سے کوئی ذاتی عناد نہیں بلکہ ان کی اس تحریک کا مقصد پر امن انداز میں تبدیلی لانا ہے۔

نواز انتظامیہ تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے پیش کردہ مطالبات کو ماورائے آئین قرار دیتے ہوئے وزیراعظم کے مستعفی ہونے کو خارج از امکان قرار دے چکی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا احتجاج کرنے والی حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا تھا۔

’’جو لوگ ووٹ حاصل نہیں کر سکے وہ آج طاقت سے اپنی بات اس طرح منوانا چاہتے ہیں جس طرح دہشت گرد اور یہ جو لوگ طاقت سے اپنی بات منوانا چاہتے ہیں یہ دہشت گردی کے رستے پر چل رہے ہیں۔‘‘

ادھر حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں کی طرف سے حکومت اور احتجاج کرنے والے سیاستدانوں کے درمیان مفاہمت کروانے کی کوششیں جاری ہیں اور دونوں جانب رابطے کیے جا رہے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین سمیت ملک کے دیگر سیاسی قائدین نے دونوں فریقین سے صبر کا دامن نا چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا۔

’’مطالبات مکمل ہو گئے اب مذاکرات شروع ہونے ہیں۔ اب مطالبات اس قدر اہم نہیں جتنے کہ مذاکرات ہیں۔ مذاکرات سے پہلے پارٹیاں اپنی پوزیشنز کو بناتی ہیں اور جب مذاکرات ہوتے ہیں تو تھوڑا سا پیچھے ہونا پڑتا ہے۔‘‘

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنوں کو ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش پر تنبیہ کر چکے ہیں۔ اس علاقے میں صدر و وزیراعظم کی سرکاری رہائیش گاہوں اور دفاتر سمیت پارلیمان اور سپریم کورٹ کی عمارتیں اور غیر ملکی سفارتخانے بھی ہیں۔ وزیر کا کہنا تھا کہ یہاں داخلے کی کوشش پر قانون حرکت میں آئے گا۔

پارلیمان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما سید خورشید شاہ کہتے ہیں کہ ایسی صورتحال سے اجتناب کرنا چاہیئے جس سے جمہوری اور سیاسی نظام کو نقصان پہنچ سکے۔

’’سب کی بقا و سالمیت اس ملک، جمہوریت اور آئین کے ساتھ ہے۔ ایک مرتبہ ایک ڈکٹیٹر نے اسے ختم کردیا تھا اور پھر دوسرے نے بھی اسے ختم کرنے کی کوشش کی تھی مگر پھر پارلیمان اور اس ملک کی عوام نے اسے بحال کیا تو یہ بچوں کا کھیل نہیں کہ یہ روزانہ ہوتا رہے۔‘‘

پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے اتوار کی سہ پہر کو جماعت کی قیادت کے اعلان سے پہلے ہی ریڈ زون کی طرف پیش قدمی شروع کر دی جہاں خار دار تاروں اور کنٹیننرز کی مدد سے داخلی راستے کو بند کیا گیا ہے۔ تاہم جماعت کے رہنماؤں نے انھیں ایسے کرنے سے روکا۔

ادھر اسلام آباد ہی میں اپنے کارکنوں سے خطاب میں ڈاکٹر طاہر القادری نے حکومت کو یاد دلایا کہ ان کے مطالبات پورے کرنے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں صرف 24 گھنٹے رہ گئے ہیں۔ طاہرالقادری نے بھی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے استعفے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG