رسائی کے لنکس

logo-print

قبل از انتخابات دھاندلی شروع ہو چکی: نواز شریف


ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کے قائد اور تین بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والے نواز شریف نے عام انتخابات سے قبل ہی دھاندلی شروع ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

اپنے اس موقف کی تائید میں بدھ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اس دھاندلی کا آغاز ان کے بقول اسی وقت شروع ہوگیا تھا جب انھیں جماعت کی صدارت اور پارلیمانی سیاست سے تاحیات نا اہل قرار دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے انتخابات کے لیے ان کی جماعت کے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ سے محروم کر دیا گیا اور ملکی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔

عدالت عظمیٰ نے گزشتہ سال ان کے خلاف یہ فیصلے دیے تھے جن پر نواز شریف تواتر سے تنقید کرتے آ رہے ہیں۔

بعض دیگر جماعتوں کی طرف سے انتخابات سے متعلق انتخابی حلقہ بندیوں سمیت مختلف تحفظات دیکھنے میں آ چکے ہیں۔ لیکن، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ملک کے طاقتور ترین سمجھے جانے والے ادارے فوج کی طرف سے انتخابات کے بروقت آزادانہ و شفاف انعقاد کا عزم بھی سامنے آ چکا ہے۔

غیر جانبدار حلقوں کے خیال میں نواز شریف کے خدشات کا اصل محور ان کے خلاف جاری عدالتی کارروائیاں ہیں جن سے ابھی تک نواز شریف کے لیے کوئی اچھی پیش رفت سامنے نہیں آئی اور مبصرین کے بقول انتخابات سے متعلق عمومی خدشات ہر جمہوری ملک میں ہوا ہی کرتے ہیں۔

پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر اے زیڈ ہلالی کہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست خدشات سے بھری ہوئی ہے اور اگر گزشتہ پانچ سال پر نظر دوڑائی جائے تو ملک میں اداروں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے تناظر میں ایسے خدشات کو نظر انداز شاید نہ کیا جا سکے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ خدشات جمہوری عمل کا حصہ ہوتے ہیں جن میں بلواسطہ طور پر تنبیہ بھی کی جا رہی ہوتی ہے۔ لیکن اچھی بات ہے کہ ملک میں جمہوری اور سیاسی عمل آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

"جس انداز میں چیزیں بڑھ رہی ہیں اچھی چیز یہ ہے کہ یہ بڑھ رہی ہیں، خدشات اپنی جگہ ہیں تحفظات اپنی جگہ ہیں۔ لیکن، گاڑی چل رہی ہے تو جو گاڑی چل رہی ہے۔ اس کو چلتے رہنا بڑا اچھا ہے، جمہوریت کی سلامتی اور بقا کے لیے یہ اچھی چیز ہے کہ سفر جاری رہے۔"

ڈاکٹر ہلالی کے خیال میں جس طرح ریاستی ادارے انتخابات کے بروقت انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے عزم ظاہر کر چکے ہیں، تو بہتر یہی ہوگا کہ سیاسی جماعتیں بھی ذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تاکہ ابہام سے بچا جائے۔

دریں اثنا، قومی احتساب بیورو کے سربراہ نے نواز شریف اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ٹرمینل کے منصوبے میں اختیارات سے مبینہ تجاوز کے معاملے کی تحقیقات شروع کرنے کی منظوری دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG