رسائی کے لنکس

اسحاق ڈار ملک کو ’’ذلت سے بچائیں‘‘ اور استعفیٰ دیں: پیپلز پارٹی


وفاقی وزیر خزانہ (فائل)

بدھ کو اسلام آباد میں احتساب عدالت نے اسحاق ڈار پر آمدنی سے زائد اثاثے بنانے اور رقوم کی غیر قانونی طریقے سے منتقلی سے متعلق فردِ جرم عائد کی، لیکن وفاقی وزیر خزانہ نے صحتِ جرم سے انکار کیا

ملک کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر آمدنی سے زائد اثاثہ جات رکھنے کے احتساب ریفرنس میں عدالت کی طرف سے فرد جرم عائد ہونے کے بعد حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں احتساب عدالت نے اسحاق ڈار پر آمدنی سے زائد اثاثے بنانے اور رقوم کی غیر قانونی طریقے سے منتقلی سے متعلق فردِ جرم عائد کی، لیکن وفاقی وزیر خزانہ نے صحتِ جرم سے انکار کیا۔

وزیر خزانہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سمدھی بھی ہیں اور عدالت عظمیٰ نے جولائی میں نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے قومی احتساب بیورو کو یہ حکم دیا تھا کہ نواز شریف ان کے دو بیٹوں، ایک بیٹی اور داماد کے علاوہ اسحٰق ڈار کے خلاف ریفرنسز تیار کر کے ان پر چھ ماہ میں کارروائی کی جائے۔

حزب مخالف اس سارے معاملے پر حکومت اور حکمران جماعت پر یہ کہہ کر تنقید کرتی آ رہی ہے کہ وہ محض شخصیات کو بچانے کے لیے ملکی ساکھ کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ تاہم، حکومت ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ انھیں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ قبول ہے۔ لیکن، اس پر اسے تحفظات ہیں اور ان تمام مقدمات کا قانونی طریقے سے سامنا کیا جائے گا۔

اسی دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے اسحٰق ڈار سے وزارتِ خزانہ کا قلمدان چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے حکومت نیا وزیر خزانہ مقرر کرے۔

بدھ کو اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے سینیئر راہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران مطالبہ کیا کہ ملک کی اقتصادیات مشکلات کا شکار ہیں، اور ان کے بقول، پاکستان اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ ان امور کا انتظام ایک ایسی شخصیت نے سنبھال رکھا ہو جس کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و اقتصادی امور کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے پریس کانفرنس میں اسحٰق ڈار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے استعفے کے مطالبے کو دہرایا۔

سینیٹر مانڈوی والا نے کہا کہ "فرد جرم بھی عائد ہو گئی عدالت میں اب کیا رہ گیا ہے آپ کیا دکھانا چاہتے ہیں اور کیا کرنا چاہ رہے ہیں آپ اس ملک کو ہر روز بدنام کر رہے ہیں اور دنیا کا ہر ملک پوچھ رہا ہے کہ یہ کیا ہے کہ آپ کے وزیر خزانہ کے وارنٹ جاری ہوئے ہیں اور وہ پھر بھی اپنی پوزیشن نہیں چھوڑتا۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ ان کو اس ملک کے مفاد میں اپنے عہدے سے ہٹ جانا چاہیے اور کسی اور کو وزیر خزانہ بنا دیا جانا چاہیے اور پاکستان کو ذلت سے بچانا چاہیے۔"

اقتصادی امور کے ماہر اور سابق مشیر ثاقب شیرانی کے نزدیک اسحٰق ڈار کا وزارت خزانہ کے منصب پر بدستور فائز رہنا ملکی اقتصادیات کے لیے مضر ثابت ہو سکتا ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک ملک کے وزیر خزانہ پر فرد جرم عائد ہو اور پھر مقدمہ چل رہا ہو تو اس سے ملک کی ساکھ تو متاثر ہوتی ہے، لیکن ساتھ ہی اگر اقتصادی صورتحال میں مشکلات کا بھی سامنا ہو تو اس میں اس طرح کی غیر یقینی صورتحال کسی طور بھی ملک کے لیے اچھی نہیں۔

بدھ کو عدالت میں پیشی کے بعد اسحٰق ڈار نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو نہیں کی لیکن حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے دیگر عہدیداروں کی طرف سے میڈیا سے گفتگو میں اس موقف کو دہرایا گیا کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا عدالتوں میں سامنا کیا جائے گا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ نواز شریف پر بھی عہدہ چھوڑنے کے لیے حزب مخالف اور مختلف سماجی حلقوں کی طرف سے دباؤ رہا تھا۔ لیکن، انھوں نے اس وقت تک اس سے علیحدگی اختیار نہیں کی جب تک عدالت عظمیٰ نے انھیں یہ عہدہ رکھنے کے لیے نا اہل قرار دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG