رسائی کے لنکس

logo-print

آئی ایم ایف کا اجلاس اور پاکستان کی تیاریاں


فائل فوٹو

پاکستان کی قومی اسمبلی مالی سال 2020-2019 کے لیے بجٹ کی حتمی منظوری آج یعنی جمعے کو دے رہی ہے جس کے بعد یکم جولائی سے بجٹ پر عمل درآمد شروع ہو گا۔

پاکستان کو ان دنوں مشکل اقتصادی صورت حال کا سامنا ہے اور اقتصادی ترقی کی شرح کم ہونے سے ملک میں مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب بجٹ کی منظوری ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب تین جولائی کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کا ایگزیکٹو بورڈ پاکستان کے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری دے گا۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 6 ارب ڈالر کے مالیاتی پیکج پر ابتدائی معاہدہ گزشتہ ماہ طے پایا تھا۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ابتدائی معاہدے میں کچھ شرائط رکھی گئی تھیں جو پاکستان نے آئی ایم ایف کی بورڈ میٹنگ سے پہلے پوری کرنی ہیں۔

روپے کی قدر میں کمی

آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ ایکسچینج ریٹ کو مصنوعی طریقے سے مستحکم نہ کرے بلکہ مارکیٹ میں موجود طلب اور رسد ہی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کا تعین کرے۔ آئی ایم ایف سے معاہدے سے قبل اور اس کے بعد پاکستانی روپے کی قدر میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

اس وقت انٹر بینک یعنی بینکوں کے درمیان ڈالر کے لین دین کی مارکیٹ میں ڈالر 163 روپے سے تجاوز کر گیا ہے جب کہ اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر مہنگا ہو گیا۔

چند روز قبل اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ طلب و رسد روپے کی قدر کو متعین کریں گی لیکن اگر اسٹیٹ بینک نے محسوس کیا تو وہ کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کرے گا۔

شرح سود میں اضافہ

پاکستان کا مرکزی بینک ملک میں افراط زر یعنی مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود کو کم یا زیادہ کرتا ہے۔

حال ہی میں اسٹیٹ بینک نے مالیاتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں 150 بیس پوائنٹس یعنی 1.5 فیصد اضافہ کیا ہے۔ جس کے بعد ملک میں شرح سود 12.25 فیصد ہو گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے سبب ملک میں مہنگائی کی شرح بڑھے گی اور مالیاتی خسارے میں اضافے، کرنسی کی قدر میں کمی کے سبب ملک میں شرح سود میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے شرح سود میں اضافے کی شرط رکھی تھی۔

اسٹیٹ بینک ہر دو ماہ کے بعد مالیاتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود مقرر کرتا ہے۔ مئی میں آئی ایم ایف کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے بعد مرکزی بینک نے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد کا اضافہ کیا جو مارکیٹ کی توقعات سے زیادہ تھا۔

بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان میں حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی اور گیس کی فراہمی اور ترسیل کی کمپنیاں خسارے میں چل رہی ہیں اور حکومت سبسڈی دینے کی متحمل نہیں ہے۔

گزشتہ سال اقتدار میں آنے کے بعد حکومت نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جس کے بعد بجلی کی فی یونٹ قیمت بھی بڑھائی گئی تھی۔

چند روز قبل بھی اقتصادی رابط کمیٹی نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ بجلی کے شعبے سرکلر ڈیٹ یعنی گردشی قرضے ختم کرنے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ غریب طبقے کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔

ان اقدامات کے سبب ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے قیمتوں میں کمی اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

معیشت اور سرمایہ کاروں کا عدم اعتماد

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ کے مطابق یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح 2.7 فیصد رہنے کی توقع ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔

فچ کی رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال میں بھی پاکستان کی درآمدات بڑھیں گی کیونکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان کی غیر ملکی درامدات کا ایک بڑا حصہ پیٹرولیم مصنوعات اور خام تیل پر مشتمل ہے۔

ان حالات میں ملک میں سرمایہ کاری کے لیے کاروباری طبقہ تذبدب کا شکار ہے اور فچ کا کہنا ہے کہ اسی رجحان کے سبب ملک میں سرمایہ کاری نہیں بڑھے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بڑی صنعتوں کی شرح نمو گزشتہ کئی ماہ سے کم ہو رہی ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچنج میں بھی جولائی 2018 سے اب تک 14 فیصد کمی آئی ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سرمایہ کار عدم اعتماد کا شکار ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG