رسائی کے لنکس

logo-print

مذہبی تنظیمیں مدارس کو وزارتِ تعلیم کی نگرانی میں دینے پر رضامند


فائل فوٹو

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں موجود اسلامی تنظیمیں 30,000 کے لگ بھگ مدرسوں کو وزارت تعلیم کی نگرانی میں دینے پر رضامند ہو گئی ہیں۔ یہ اقدام حکومت کی طرف سے ملک میں انتہاپسندی کے رجحان کو روکنے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔

ناقدین ان مدرسوں کو ملک میں انتہا پسندی اور بین الاقوامی دہشت گردی نیٹ ورکس کے فروغ کی آماجگاہ گردانتے ہیں۔ پاکستانی فوج پر بھی الزامات لگائے جاتے رہے ہیں کہ وہ افغانستان میں تنازعات کو ہوا دینے اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت مخالف تحریک کے لیے عسکریت پسندوں کو تربیت دینے کی خاطر خفیہ طور پر ان مدرسوں کو مدد فراہم کرتی رہی ہے۔

پاکستان کے وزیر تعلیم شفقت محمود نے ایک مقامی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی تنظیموں کے ساتھ طے ہونے والے سمجھوتے میں مدرسوں کے لیے وزارت تعلیم کے ساتھ رجسٹر کرنے کی تمام شرائط طے کر لی گئی ہیں اور جو مدرسے اس کی مخالفت کریں گے اُنہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سمجھوتے کے تحت حکومت مدرسے چلانے والی تنظیموں کو بینک اکاؤنٹ کھولنے اور غیر ملکی طلبا کے لیے ویزوں کے حصول میں تعاون کرے گی۔

سرکاری عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے حکومت کو مدرسوں اور اُن کو چلانے والی تنظیموں کو ملنے والے چندوں کا آڈٹ کرنے کی سہولت حاصل ہو جائے گی تاکہ دہشت گردی سے متعلقہ فنڈنگ کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی طلبا کی نگرانی بھی کی جا سکے گی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے چند روز پہلے ایک نیوز کانفرنس میں اشارہ دیا تھا کہ مدرسوں میں اصلاحات اور اُنہیں سرکاری کنٹرول میں لانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اعلان حکومت کی بجائے فوج کی طرف سے آنے کا مطلب اسلامی تنظیموں اور مدرسوں کو ایک مضبوط پیغام دینا تھا کہ اُن کی طرف سے کسی قسم کی مخالفت برداشت نہیں کی جائے گی۔

بتایا جاتا ہے کہ مدرسوں میں تعلیم کے لیے مناسب سہولتیں موجود نہیں ہیں اور ان میں بچے زیادہ تر قرآن کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ جب کہ اُنہیں جدید علوم کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ یوں یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والوں کے لیے کسی مسجد میں امام بننے کے علاوہ روزگار کے دوسرے مواقع موجود نہیں ہیں۔

مدرسوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان بھر سے غریب خاندانوں کے 25 لاکھ کے لگ بھگ بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے ناخواندہ ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ملک میں موجود مدرسوں میں سے 100 سے کم مدرسے ایسے ہیں جن پر انتہاپسندی اور دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مدرسوں میں بدستور اسلامی تعلیم دی جاتی رہے گی تاہم نفرت پر مبنی مواد کی مکمل طور پر ممانعت ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG