رسائی کے لنکس

logo-print

دورانِ حراست تشدد پر پابندی کا بل اسمبلی میں لانے کی ہدایت


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی وزارتِ داخلہ کو زیر حراست افراد پر تشدد کی روک تھام کا مسودہ قانون فوری طور پر اسمبلی میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ دوران حراست تشدد کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہے۔

جمعرات کو وزیراعظم نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ کسی بھی جمہوری اور مہذب معاشرے میں تشدد ناقابل قبول ہے۔ ان کے بقول یہ ہمارے آئین اور عالمی سطح پر کرائی گئی یقین دہانیوں کے بھی خلاف ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے تشدد کے خاتمے کے خلاف اقوامِ متحدہ کے کنونشن کی توثیق کر رکھی ہے، لیکن ابھی تک اس کنونشن کے تحت ملک میں زیرِ حراست افراد کےخلاف مبینہ طور پر روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کی روک تھام کے لیے موثر قانون سازی نہیں ہو سکی ہے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم 'جسٹس پروجیکٹ پاکستان' سے وابستہ ثناء فرخ کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد کے خلاف تشدد کے واقعات کے بارے میں کوئی مصدقہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

لیکن ان کے بقول گزشتہ دو، تین برسوں میں پولیس کی حراست میں تشدد سے ہلاکتوں کے واقعات تواتر سے منظر عام پر آتے رہے ہیں۔ لہذٰا ان کی روک تھام کے لیے موثر قانون سازی ناگزیر ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کی انسانی حقوق سے متعلق کمیٹی دوران حراست تشدد کے خلاف ایک بل کا مسودہ منظور کر چکی ہے۔ یہ بل حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے پیش کیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں زیرِ حراست افراد کی ہلاکتوں کے واقعات عموماً منظر عام پر آتے رہے ہیں۔

کئی واقعات میں پولیس ایسی ہلاکتوں کی وجہ خودکشی، بیماری یا حادثہ قرار دیتی ہے۔ لیکن ہلاک ہونے والوں کے لواحقین دورانِ حراست تشدد کو اس کی وجہ قرار دیتے رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ملک کی جیلوں میں زیر سماعت مقدمات میں قید یا تین سال سے کم سزا پانے والی ان خواتین قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا ہے جن کی عمر 55 سال زیادہ ہے یا وہ کسی جسمانی یا ذہنی عارضے میں متبلا ہیں۔

عمران خان نے انسانی بنیادوں پر پاکستان کی جیلوں میں قید غیر ملکی خواتین قیدیوں اور سزائے موت کی منتظر خواتین قیدیوں کی تفصیل بھی فوری طلب کی ہے۔

وزیر اعظم کی طرف سے خواتین قیدیوں سے متعلق یہ اعلان حال ہی میں پاکستان کی مختلف جیلوں میں ان کی حالت زار سے متعلق انسانی حقوق کی وزارت کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی جیلوں میں قید 1200 سے زائد خواتین کی لگ بھگ دو تہائی تعداد ان کی ہے جن کے مقدمات کی ابتدائی سماعت ابھی مکمل ہونا باقی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید 67 فی صد خواتین ایسی ہیں جن کے مقدمات ابھی تک زیرِ سماعت ہیں۔

رپورٹ میں مختلف مقدمات کے تحت جیلوں میں قید خواتین کو درپیش مسائل کے حل سے متعلق انتطامی اور قانونی سطح پر اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد اپریل میں پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے جیلوں سے ان قیدی خواتین کی رہائی کا حکم دیا تھا جن کی سزا تین سال سے کم ہے۔

عدالت عظمٰی نے پاکستان کے اٹارنی جنرل کی یہ تجویز بھی منظور کر لی تھی جس میں کسی جسمانی یا ذہنی معذوری میں مبتلا قیدی خواتین کی رہائی کی استدعا کی گئی تھی۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے وزیر اعظم عمران کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن سارہ بلال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے اعلان سے تقریباً 500 قیدی خواتین رہا ہو سکتی ہیں۔

ان کے بقول پاکستانی جیلوں میں قیدیوں کے لیے مناسب سہولتوں کی فراہمی میں کئی مسائل حائل ہیں لیکن جب بھی حکومتیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں تو مثبت تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG