رسائی کے لنکس

logo-print

فیسوں میں اضافہ، ایف آئی اے کی 16 نجی اسکولوں کے خلاف کارروائی


فائل

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے بعد ایف آئی اے نے نجی اسکولوں کے خلاف فیسوں میں اضافے سے متعلق کارروائی کرتے ہوئے 16 اسکولوں کو سیل کر دیا ہے، سیل کیے جانے والوں میں ایلیٹ کلاس کے کئی اسکولوں کی برانچز بھی شامل ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تمام بڑے اسکولوں کی بنیادی فیس میں 20 فیصد کمی کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ نجی اسکول فیس میں سالانہ 8 فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں کر سکتے۔ تاہم، اسکولوں کو ازخود پانچ فیصد سالانہ فیس بڑھانے کا اختیار ہوگا اور پانچ فیصد سے زائد اضافے کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی کی اجازت درکار ہوگی۔ تمام اسکول گرمیوں کی چھٹیوں کی آدھی فیس واپس یا ایڈجسٹ کریں گے۔

ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کے حکم پر فیسوں میں اضافے سے متعلق کارروائی کرتے ہوئے، کراچی میں 16 اسکولوں کو سیل کردیا اور متعدد اسکولوں کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا، جبکہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی اس سلسلے میں کارروائی جاری ہے۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر اسکولوں کا ریکارڈ قبضے میں لیا گیا ہے، جن اسکولوں کو سیل کیا گیا ہے ان میں سٹی اسکول، بے ویو اکیڈمی، بیکن ہاؤس، جنریشن اسکول، فروبل ایجوکیشن سینٹر، سولائزیشن اسکول شامل ہیں جب کہ بیکن ہاؤس اور سٹی اسکول کی متعدد برانچیں سیل کردی گئی ہیں۔

سپریم کورٹ نے 21 بڑے اسکولوں کے اکاؤنٹس تحویل میں لینے اور کھاتے ضبط کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا ہے کہ نجی اسکولوں کو غیر ضروری منافع نہیں کمانے دیں گے۔ عدالت نے قرار دیا کہ فیس کے معاملے پر اگر بچے کو نکالا گیا یا اسکول بند کیا تو اس کی ذمہ داری مالکان پر ہوگی۔

کیس کی سماعت کے دوران بتایا گیا تھا کہ ایک اسکول کا ڈائریکٹر 85 لاکھ روپے تنخواہ لے رہا ہے، آڈیٹر جنرل حکام نے عدالت کو بتایا کہ نجی اسکول نے پانچ افراد کو 512 ملین تنخواہوں کی مد میں ادا کئے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سرکاری اسکول اس قابل نہیں کہ والدین بچے بھجوا سکیں، نجی اسکولوں کے مالکان ایک اسکول سے 250 اسکولوں کے مالک بن گئے۔

عدالت نے ایف بی آر کو لاہور گرائمر اسکول کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور کو ابھی فون پر آگاہ کیا جائے، اکاؤنٹس کا مکمل ریکارڈ اور کمپیوٹر بھی تحویل میں لے لیے جائیں، اس حوالے سے پرائیویٹ اسکول ایسویسی ایشن پنجاب کے صدر کاشف مرزا کہتے ہیں کہ عدالت کا حکم سر آنکھوں پر، لیکن تعلیم دینے والوں کی تضحیک نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف اسکولوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ لیکن اس حوالے سے تعلیم فراہم کرنے والے اساتذہ کی تضحیک نہ کی جائے اور جو قانون کے مطابق ان سے تفتیش کی ضرورت ہے وہ کی جائے۔

نجی اسکولوں میں بچوں کی ہزاروں روپے ماہانہ فیس ادا کرنے والے والدین کی تنظیم کے صدر بیرسٹر قاسم کہتے ہیں کہ ان اسکولوں کا اگر درست آڈٹ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ پاکستان میں اس انڈسٹری سے زیادہ منافع کسی اور میں نہیں ہے۔ عدالت نے صرف 20 فیصد فیسیں کم کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ ان اسکولوں کا منافع سو فیصد سے زائد ہے۔ ایک ایک ڈائریکٹر کو لاکھوں روپے تنخواہ اور منافع بھی دیا جا رہا ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کس قدر کما رہے ہیں۔ لیکن والدین کو ریلیف فراہم نہیں کرتے۔

تعلیمی امور پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’الف اعلان‘ کے سربراہ، مشرف زیدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر یہ اسکول بند ہوئے تو اس کے نتیجہ میں ڈھائی لاکھ بچوں کا مستقبل کیا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق تعلیم فراہم کرنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے، لیکن بعض نجی اسکولوں میں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ فیس سے مطمئن نہیں تو اپنے بچے کو کہیں اور لے جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان ہی بچوں کا مستقبل روشن ہے جن کے والدین کا حال روشن ہے۔ غریب کے بچوں کا بھی تعلیم پر اتنا ہی حق ہے جتنا کسی امیر کے بچے کا۔

سپریم کورٹ نے فیسیں کم کرنے کا حکم تو دیدیا۔ لیکن سرکاری سطح پر تعلیم کے فروغ اور ایک نصاب ہونے کے محض اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ لیکن عملی طور پر اب تک ایسا کوئی بندوبست نہیں کہ سرکاری اور نجی اسکولوں کا معیار ایک جیسا ہو سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG