رسائی کے لنکس

عافیہ صدیقی پر جیل میں قیدی کا مبینہ حملہ، پاکستان کا امریکہ سے تحقیقات کا مطالبہ


فائل فوٹو

پاکستان نے امریکہ میں قید پاکستان کی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر ایک دوسری قیدی کے مبینہ حملے کی شکایت باضابطہ طور پر امریکی حکام سے کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ایک بیان میں کہا کہ اسلام آباد کو یہ معلوم ہوا ہے کہ عافیہ صدیقی پر یہ حملہ دوران قید ایک دوسری قیدی نے 30 جولائی کو کیا ہے۔

تاہم ترجمان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں عافیہ صدیقی کو معمولی زخم آئے۔ اب ان کی طبیعت بہتر ہے۔

پاکستان نے امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف ہونے والے مبینہ حملے کی شکایت امریکی حکام سے کی ہے اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستان کے سفارت خانے اور ہیوسٹن میں پاکستانی قونصل خانے نے فوری طور یہ معاملہ متعلقہ امریکی حکام کے ساتھ اٹھایا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ہیوسٹن میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی خیر و عافیت معلوم کرنے کے لیے جیل کا فوری دورہ کیا۔ ترجمان کے بقول ڈاکٹر صدیقی کو کچھ معمولی زخم آئے اور اب انہیں طبیعت بہتر ہو رہی ہے ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ واشنگٹن ڈی سی میں پاکستان کا سفارت خانہ اور ہیوسٹن میں پاکستان کے قونصل جنرل دونوں اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ ریاست ٹیکساس کی ایک جیل میں قید ڈاکٹر صدیقی کی مناسب دیکھ بھال کی جائے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف حملے کی مزید تفصیل بیان نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ یہ حملہ آور کون ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثر ہونے والے افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی برطانوی تنظیم ’کیج‘ نے 19 اگست کو اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں عافیہ صدیقی پر ایک دوسری قیدی کے حملے کا انکشاف کیا تھا۔

کیج نے بتایا ہے کہ عافیہ صدیقی کے وکلا کی طرف سے پریشان کن اطلاعات موصول ہوئی کہ عافیہ صدیق پر جیل میں سیل اس قیدی نے حملہ کیا جو وکلا کے مطابق کچھ عرصے سے انہیں مبینہ طور ہر اساں کرنے میں ملوث ہے۔ 30 جولائی کو اس قیدی نے کسی گرم مائع چیز سے بھرا ہوا برتن عافیہ کے چہرے پر مارا۔

بیان کے مطابق اس حملے میں عافیہ کے لیے خود سے کھڑا ہونا مشکل ہو گیا تھا اور انہیں ایک وہیل چیئر کی ذریعے جیل کے سیل سے باہر لایا گیا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے بیان اور کیج کے دعوے کے بارے میں امریکی حکام کی جانب سے تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

البتہ تین برس قبل جیل میں عافیہ صدیقی کے ساتھ مبینہ طور پر ناروا سلوک کی شکایات پر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ امریکی آئین اور قوانین میں افراد کو حاصل تحفظ کے تحت امریکہ قیدیوں کے ساتھ ہمدردانہ برتاؤ کرتا ہے اور اس سلسلے میں ہم انسانی حقوق سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں۔

عافیہ پر الزم تھا کہ انہوں نے افغانستان کے صوبہ غزنی کی ایک جیل میں قید کے دوران امریکی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' کے اہلکاروں کی ایک ٹیم پر اس وقت قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کی تھی جب وہ ان سے 'القاعدہ' کے ساتھ ان کے مبینہ روابط کی تفتیش کر رہے تھے۔

اگرچہ اس حملے میں کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا تھا۔ البتہ امریکی فوجی کی جوابی فائرنگ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پیٹ میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئی تھیں۔

ایک امریکی عدالت نے 2012 میں عافیہ صدیقی کے مقدمے کی کارروائی کے مبینہ طور پر غیر شفاف ہونے سے متعلق عافیہ کے وکلا کے دعوؤں اور سزا کے خلاف دائر ان کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سنائی جانے والے قید کی سزا برقرر رکھی تھی۔

امریکہ کے تعلیمی اداروں سے فارغ نیورو سائنس دان عافیہ صدیقی اپنے تین کمسن بچوں کے ہمراہ 2003 میں پاکستان سے پراسرار طور پر لاپتا ہو گئی تھیں جس کے بعد ان کی موجودگی کا انکشاف افغانستان میں بگرام کے امریکی فوجی اڈے میں ہوا تھا۔

سال 2010 میں ایک امریکی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی فوجی پر حملے کے جرم سمیت سات مختلف الزامات میں 86 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں بندوق چلانے کا کوئی علم نہیں اور نہ ہی انہوں نے کوئی ایسا جرم کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG