رسائی کے لنکس

ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کی گونج ایک مرتبہ پھر سینیٹ اجلاس میں


پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے جمعہ کو ہونے والے اجلاس کے دوران جمعیت علمائے فضل الرحمٰن سے تعلق رکھنے والے سینیڑ حافظ حمد اللہ کے ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں ایوان میں موجود وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کے بارے میں تحقیقات چاہتی ہے تو اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

سینیٹر حمد اللہ نے توجہ دلاؤ نوٹس میں ریمنڈ ڈیوس کی ایک حالیہ کتاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں حقائق سامنے نہیں آئے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس معاملے میں کس کس نے کیا کردار ادا کیا تو پارلیمنٹ فیصلہ کرنے اور اُس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

گزشتہ ماہ پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سابق سینیٹر ظفر علی شاہ نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے ’سی آئی اے‘ سے نجی حیثیت میں وابستہ ریمنڈ ڈیوس کو پاکستان واپس لایا جائے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں ریمنڈ ڈیوس کی ایک کتاب ’دی کنٹریکٹر‘ شائع ہوئی ہے۔ اپنی اس سوانح عمری میں ریمنڈ ڈیوس نے بتایا ہے کہ کس طرح وہ پاکستانی جیل میں پہنچے اور بعد ازاں اُن کی رہائی ممکن ہوئی۔

جنوری 2011ء میں لاہور کے لیٹن روڈ پر ریمنڈ ڈیوس نے دو پاکستانی شہریوں فیضان اور فہیم کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

ریمنڈ ڈیوس کا موقف ہے کہ جب اُن کی گاڑی ایک ٹریفک سنگل پر پھنس گئی تھی تو موٹرسائیکل پر سوار دو افراد نے اُن پر پستول تان لی تھی اور اُنھوں نے اپنے دفاع میں اُن افراد پر گولی چلائی تھی۔

اس واقعے کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ 49 روز تک پاکستان میں قید رہے تھے۔

لاہور کی ایک ذیلی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران مقتولین کے ورثا نے بتایا تھا کہ اُنھوں نے قصاص و دیت کے تحت قاتل سے خون بہا وصول کر لیا ہے جس کے بعد سیشن کورٹ کے جج نے ریمنڈ ڈیوس رہا کرنے کا حکم جاری کردیا اور اُسی روز وہ خصوصی طیارے سے ملک سے باہر چلے گئے۔

ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری، امریکہ میں تعینات پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی، پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا اور پاکستان میں امریکہ کے سفیر کیمرون منٹر کے علاوہ پاکستان کے اُس وقت کے صدر آصف زرداری نے ان کی رہائی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG