رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر انکوائری کمیشن قائم کرنے کی تجویز کا خیر مقدم


اقوام متحدہ نے متنازع کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن بنانے کی تجویز دی ہے جس کا اسلام آباد اور پاکستان کے زیر اتنظام کشمیر کی قیادت نے خیر مقدم کیا ہے۔

یہ تجویز اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق دفتر کی طرف سے بھارت اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق جمعرات کو جاری ہونے والی رپورٹ میں دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر سے پہلی بار جاری ہونے والی رپورٹ میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بامعنی بات چیت سے ہی حل ہو سکتا ہے اور اس کے لیے تشدد کو روکنا ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ہائی کمشنر زید راد الحسین نے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمشن بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھارت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ گزشتہ 30 سالوں کے دوران فوج اور عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی نئے سرے سے تحقیقات کرنے کا کہا ہے اور ان واقعات میں ملوث اہلکاروں کو قانون کے کٹہر ے میں لانے کی راہ میں رکاوٹ بننے والے قوانین کے خاتمہ پر بھی زور دیا ہے۔ تاہم، بھارت نے اس رپورٹ کو "غلط'‘ کہہ کر مستر کر دیا ہے۔

رپورٹ میں اسلام آباد پر زور دیا گیا ہے وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں انسداد دہشت گردی کے قانون کے ان لوگوں کے خلاف استعمال کو دیکھے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند کر رہے ہیں۔

اسلام آباد یہ کہہ چکا ہے کہ اس قانون کا مقصد ملک میں شدت پسندی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔

تاہم، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قیادت اور پاکستان کے دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق دفتر کی طرف سے بھار ت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقو ق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن بنانے کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر مسعود خان نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیریوں کی اخلاقی جیت ہے۔

بقول اُن کے، "ہندوستان کے دباؤ کے باوجود اور ہندوستان کے بڑھتے ہوئے مظالم کے باوجود اگر یہ رپورٹ شائع ہوئی اور اس جرات کے ساتھ (اقوام متحدہ کی) حقوق انسانی کی کونسل اور ہائی کمیشن فار ہیمومن رائٹس اگر یہ بات کر رہے ہیں تو میں یہ سجھتا ہوں کہ یہ کشمیریوں کی اخلاقی فتح ہے حقوق انسانی کونسل میں ان کی آواز سنی گئی ہے اور جو چیزیں انہوں نے کہی ہیں ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔"

اقوام متحدہ کے دفتر کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران متعدد بار درخواست کرنے کےباوجود لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب غیر مشروط رسائی نہیں دی گئی ہے۔

جب اس بارے میں مسعود خان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کا کوئی کمیشن پاکستان کے زیر اتنطام کشمیر آنا چاہیے تو وہ اسے خوش آمدید کہیں گے۔

پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کا باضابطہ جواب تو پاکستان کا دفتر خارجہ دے گا۔ تاہم، ان کے بقول، ’’پاکستان میں انسدادی گردی کے قانون کا اطلاق صرف شدت پسندوں کے خلاف کیا جارہا ہے۔"

بقول ان کے، ’’جو میری معلومات ہیں اس کے مطابق جو بھی انسداد دہشت گردی کے قوانین ہیں جو دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے اس وقت زیر استعمال ہیں تو ان میں کسی بھی قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی اگر حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہورہی تو وہ دہشت گرد کررہے جو ہمارے عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں یا جو ہمارے فوجی ہیں اور سیکیورٹی اہلکار ہیں ان کو نشانہ بناتے ہیں۔ "

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر سے جاری ہونےوالی رپورٹ میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

تاہم، پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کہ انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر کی رپورٹ میں یہ بات وضاحت سے کی گئی ہے کہ رپورٹ کا محور بھارت کے زیر اتنظام کشمیر کی صورت حال پر ہے اور اس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق سے متعلق تحفظات کے اظہار کو بھارت کے زیر انتظام انسانی حقوق کی بڑے پیماے پر ہونے منظم خلاف ورزیوں کے مساوی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ تاہم، بھارت پاکستان کے موقف کو مسترد کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG